کوہلو کے مختلف علاقوں میں پینے کا پانی ناپید، آلودہ پانی پینے سے بیماریاں پھیلنے لگیں

کوہلو (انتخاب نیوز) ضلع کوہلو میں سیلاب متاثرین کے مشکلات تاحال کم نہیں ہوسکے ہیں ضلع کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین اور شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ضلع کے شہری و نواحی علاقوں کلی چرمی ،کلی سردار شہر،کلی فیرو زخان ،نیو کلی ،نیصوبہ ،ٹاﺅن،گاڑدواغ ،ملک زئی سمیت دیگر علاقوں میں پینے کا صاف پانی ناپید ہواہے جس کے باعث شہری آلودہ پانی پینے کے باعث ڈائریا ،گیسٹرو دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں شہریوں نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ سے پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے جس کے باعث سیلاب کا پانی مختلف مقامات پر تالابوں اور واٹر سپلائی کے پائپ لائنوں میں مکس ہونے سے لوگ بڑی تعداد میں بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں اس حوالے سے کئی مرتبہ محکمہ پی ایچ ای اور دیگر عملے سے گزارش کی ہے مگر تاحال کوئی سنوائی نہیں ہوسکی ہے انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ مختلف کار اش سینٹروں اور حمامز کو پانی سپلائی کررہا ہے جبکہ بعض علاقوں میں پانی ٹینکرز والوں کو پیسے لیکر سپلائی کرنے کے شکایت بھی ہیں مگر یہاں عوام پینے کے پانی کی بوند بوند کےلئے ترس گئے ہیں ڈپٹی کمشنر کوہلو کے نوٹس لینے اور شوکاز نوٹس کے باوجود مسئلہ تاحال حل طلب ہے اب یہاں لوگ حیران و پریشان ہیں کہ وہ کہاں جائیں کس کے پاس شکایت لیکر جائیں کیونکہ یہاں زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں جو یومیہ اجرت پر کام کرکے بمشکل 500روپے کماتے ہیں وہ پانی خریدیں یا اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی مہا کریں ضلع میں ٹینکرز کا بھی کوئی ریٹ لسٹ مقرر نہیں ہے پانی ناپید ہونے سے ان کی چاندی ہوجاتی ہے فی ٹینکر 1500سے لیکر 2500تک مہا کرتے ہیں جبکہ کئی ٹینکرز کا ٹینک بھی چھوٹے سائز کا ہے اب لوگ پریشان ہیں کہ وہ کیا کریں شکایت کریں تو کس سے کریں کوئی سننے والا نہیں ہے سیلاب متاثرین اور شہریوں نے صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری اور ڈپٹی کمشنر کوہلو قربان مگسی سے فوری نوٹس لیکر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں