پی ڈی ایم اور تحریک انصاف بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں، سراج الحق

خضدار (انتخاب نیوز) امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں ان کا پالیسیوں پر کوئی اختلاف نہیں، عمران خان، آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف امریکہ کے دورہ کرچکے ہیں مگر ان میں سے کسی نے بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا کیونکہ اس معاملے پر یہ لوگ ایک ہیں۔ ان کی آپس میں مفادات کی جنگ ہے عوام کو غربت سے نکالنے یا جہالت کو ختم کرکے عدل و انصاف قائم کرنے کی جنگ نہیں بلکہ ذاتی مقاصد کے حصول کیلیے اختلافات ہیں ویسے ان کا قبلہ بھی ایک ہی ہے یہ سب اسٹیبلشمنٹ کی گملوں کے پروردہ لوگ ہیں۔ ان کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں چل سکتا۔ کل نوازشریف کہہ رہاتھاکہ مجھے کیوں نکالا گیا اور آج عمران کہہ رہاہے کہ مجھے کیوں نکالا، اب ان عنقریب آپ دیکھیں گے کہ شہبازشریف کہے گا کہ مجھے کیوں نکالا گیا۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے لایا اور پھر اس کو چلانے کی کوشش کی لیکن امیدوں پر پورا نہ اترنے پر اسٹیبلشمنٹ نے اس کا ساتھ دینا چھوڑ دیا تو اگلے دن ان کی حکومت ختم ہوگئی پھر اسٹیبلشمنٹ نے پی ڈی ایم کو لایا۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مرہون منت ہے یہ سیاسی لوگ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے کارندے ہیں اس لیے اب ان کی سیاست وینٹی لیٹر پر ہے عوام پر ان کے چہرے عیاں ہوگئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہناتھا کہ حالیہ سیلاب سے تین کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہوگئے ہیں جبکہ دس ہزار گھر سیلاب میں بہہ گئیں ہیں، لوگوں کو رہنے کیلئے چھت میسر نہیں اب بھی ہزاروں لوگ سڑکوں کے کنارے رہنے پر مجبور ہیں انہیں کھانے کیلیے خوراک تک میسر نہیں لیکن پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو ان کا کوئی فکر نہیں، انہیں ان کے سیاسی مقاصد زیادہ عزیز ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ سیاسی رسہ کشی میں مصروف عمل ہیں ان کو عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ اندر سے یہ لوگ ایک ہیں، انہوں نے مل کر کشمیر کوبھارت کے حوالہ کیا اور آئی ایم ایف کے مطالبے پر اسٹیٹ بینک کے گورنر ان کی مرضی کا لگایا، ٹرانسجینڈر ایکٹ کو متفقہ طور پر پاس کیا۔ عوام اب ان سے بیزار ہوچکے ہیں یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں ان کے مارچ اور احتجاج عوام کو ریلیف پہنچانے کیلیے نہیں بلکہ حکمرانی کیلیے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں