بازار کمیٹی کے غیر آئینی وجود کو تسلیم نہیں کرتے، انجمن دکانداران پنجگور
پنجگور (انتخاب نیوز) انجمن دکانداران کے رہنماﺅں حاجی عبدالمالک بلوچ عطاءمحمد دہانی محمد حسین کریم جان اور دیگر نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بازار کمیٹی کی مدت تین سال ہے مگر حاجی خلیل اور ساتھیوں نے اسے غیر آئینی طریقے سے کھینچ کر پانچ سال تک لے گیا ہے، جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجمن دکانداران بازار کمیٹی کے غیر آئینی وجود کو تسلیم نہیں کرتے، سرکاری اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بازار کے معاملات میں موجودہ غیر آئینی کمیٹی سے خود کو دور رکھیں اور بازار کے معاملات پر ان سے کسی قسم کا صلح ومشورہ نہ کریں تاوقتیکہ کہ نئے الیکشن نہیں کرائے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی خلیل احمد اور ان کی کابینہ بازار کے مسائل حل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے، پانچ سال کے دوران بازار کا ایک بھی مسئلہ حل نہیں کرسکا ہے، بلکہ بازار کے مسائل کو چھوڑ کر تاجران کمیٹی کی مسلط شدہ کابینہ نے بارڈر اور ڈیزل ڈپووں کو فوکس کیا، ہڑتال اور احتجاج کرکے بارڈر سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجران کمیٹی کو بارڈر سے کیا واسطہ ہے بارڈر کا کاروبار الگ ہے اور پنجگور بازار کے معاملات الگ ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں تاجر کمیٹی کی مسلط شدہ کابینہ کو بھی خیرسگالی کے طور پر بلایا گیا تاکہ متفقہ طور پر کابینہ تشکیل دینے کے لیے صلاح ومشورہ کیا جاسکے، مگر حاجی خلیل اور ساتھیوں نے راہ فرار اختیار کرکے مرکزی انجمن دکانداران کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بازار کمیٹی کا الیکشن ایک جمہوری عمل ہے جس سے فرار اختیار کرنے کا مقصد دکانداروں کا اعتماد حاصل نہ ہونا ہے۔ غیر، آئینی کابینہ کو فوری طور پر ختم کرکے باقاعدہ انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی سے ذاتی اختلاف نہیں ہے حاجی خلیل احمد اور انکی کابینہ سے اصولوں کی بنیاد پر اختلافات ہیں پنجگور کی تاجر برادری یہ چاہتی ہے کہ کمیٹی کے انتخابات ہوں اور نئی قیادت سامنے آئے تاکہ بازار کے مسائل حل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کے ذریعے دکانداروں کی نمائندگی چاہتے ہیں۔


