اختر مینگل اداروں اور فورسز کیخلاف مہم چلانے سے باز رہیں، مشیر داخلہ بلوچستان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) مشیر داخلہ بلوچستان و پی ڈی ایم اے میر ضیاءاللہ لانگو نے بولان کے علاقے سے خواتین کو پولیس اور فورسز کی جانب سے اٹھائے جانے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خواتین قتل کے مقدمے میں نامزد ہیں جنہیں حراست میں لیا گیا اور وہ اب ضمانت پر ہیں سوشل میڈیا پر بلاجواز طور پر پولیس ‘ سی ٹی ڈی‘ فورسزاور حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے ان کے مورال کو ڈاﺅن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے خواتین کو اٹھانے اور منظر عام پر لانے کے حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی وفاقی وزیر اس بارے میں اپنا موقف دیکر حقائق قوم کے سامنے لائیں کیونکہ وہ وفاق اور بلوچستان حکومت کا حصہ ہیں اور ان کے نمائندے وزارتوں میں بھی ذمہ داری نبھا رہے ہیںکسی بھی دہشت گرد سے مذاکرات نہیں ہونگے اور نہ ہورہے ہیں جو مذاکرات کے ذریعے بات کرنا چاہتے ہیں ان سے قانونی دائرہ کار میں بات ہوگی اور انہیں ملک واپس لائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کوئٹہ کیپٹن (ر) غلام اظفرمہیسر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا مشیر داخلہ ضیا لانگو نے کہا کہ کچھ روز سے سوشل میڈیا پر فورسز اور اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے بلوچستان میں خواتین کا مکمل احترام ہے کیونکہ ہم بھی مسلمان اور بلوچستانی ہیں ہم کوئی غیر قانونی اقدام نہیں کرتے کیونکہ تخریب کاری میں ملوث تنظیم نے تاثر دیاہے کہ بلوچستان کے علاقے بولان سے خواتین کواغواءکیاگیا حالانکہ بولان میں ایک قتل کے مقدمے میں خواتین کو متاثرہ خاندان کی جانب سے نامزد کرنے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا جو اس وقت ضمانت پر ہیںاس کے علاوہ خواتین کو اغواءیا لاپتہ کرنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا خواتین کا نام قتل کے مقدمے میں تھا پولیس نے کسی کو بلاوجہ حراست میں نہیں لیا کسی کو بے گناہ بالخصوص عورتوں کو حراست میں نہیں لیا گیا بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے بولان واقعہ کو غلط رنگ دیا جارہا ہے مقدمے میں نامزد خواتین کو ضمانت ہونے کے بعد رہا کردیاگیا ہے بولان کے علاقے سے لاپتہ ہونے والی خواتین کے دوسرے واقعے کا کسی کو پتہ نہیں ان کو کون منظر عام پر لایااور کہاں سے اس کا جواب بلوچستان نیشنل پارٹی ( مینگل) سے پوچھا جائے انہوں نے کہا کہ ہرنائی کے علاقے میں آپریشن میں 10 تخریب کار مارے گئے تھے اسی طرح خاران میں بھی لطف اللہ نامی شخص نے اپنی بیوی کو قتل کیا اور بعد میں خود کشی کرلی لیکن تاثر دیا گیا کہ پولیس چھاپوں سے تنگ آکر میاں بیوی نے خود کشی کی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل اپنے سیاسی مفادات کیلئے عوام کو استعمال نہ کریں بولان سے خواتین کو لاپتہ کرنے اور بازیابی کی تحقیقات کی جارہی ہیں منفی پروپیگنڈہ بیرون ملک سے کیا جارہا ہے ملک دشمن سرگرمیاں پھیلانے والوں کے خلاف ایف آئی اے تحقیقات کررہی ہے۔ حکومت تخریب کاری کرنے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کرے گی مذاکرات صرف پرامن رہنے والے محب وطن لوگوں سے ہونگے ہرنائی میں کالعدم تنظیم اپنا نام بنانے کیلئے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے تاکہ وہ اپنے بیرونی آقاﺅں کو خوش کرکے اپنے حاصل ہونے والے وسائل میں اضافہ کرواسکے انہوں نے کہا کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کواداروں اور فورسز کے خلاف مہم چلانے سے باز رہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک افغانستان کے حالات کا بلوچستان پر اثر پڑتا ہے۔ افغانستان میں نئی حکومت کے آنے کے بعد تخریب کار فرار ہوکر بلوچستان آچکے ہیں اوراپنی مذموم سرگرمیوں کے ذریعے کارروائیاں کررہے ہیں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے، بدامنی پھیلانے والوں کیخلاف حکومت ڈٹ کران کا مقابلہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن خواتین کو گزشتہ روز آئی جی پولیس بلوچستان سے بی این پی کے وفاقی وزیرآغا حسن بلوچ نے ملاقات کرکے باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ انہیں لاپتہ کیا گیا تھا اور منظر عام پر لائے ہیں اس حوالے سے سرداراختر مینگل اور آغا حسن بلوچ ہی قوم کو حقیقت بتا سکتے ہیں کہ انہیں کس نے لاپتہ کیا تھااوروہ کہاں سے منظر عام پر لائے ہیں پی ٹی آئی کے رہنماءاعظم سواتی کے دورہ کوئٹہ کے دوران رہائش کے معاملے کو ان کے بیان کی روشنی میں دیکھا جارہا ہے اعظم سواتی22 اگست کو کوئٹہ آئے تھے زبانی باتیں نہیں کرتا خود تحقیقات کروں گا اور حقائق سے آگاہی دونگا ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی ایریا سے اے ایریا میں تبدیلی حکومت دیکھ رہی ہے اور اس حوالے سے قائم کی جانے والی کمیٹی کام کررہی ہے ۔


