تفتان، پاک ایران سرحد پر تجارتی ٹرمینل کی بندش کیخلاف آل پارٹیز اور تاجران کی اپیل پر شٹر ڈاؤن
تفتان (انتخاب نیوز) پاک ایران سرحد سے متصل تجارتی ٹرمینل کی بندش پر آل پارٹیز، سیاسی پینلز اور انجمن تاجران کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر مظاہرین نے بازار میں ریلی بھی نکالی مظاہرین کے شرکا سے قبائلی، سیاسی، تاجر رہنماؤں حاجی عیسی خان شیرزئی، میر حاجی شوکت علی عیسی زئی، سردار عبدالرحیم خلجی اور محمد شریف مینگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک ایران سرحد سے متصل گیٹ بازار چہ کو پچھلے دو سال سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا ہے عوامی احتجاج کے بعد اس مسئلے کے لیے چیئرمین ایف بی آر اور چیف سیکرٹری بلوچستان نے تفتان کا دورہ کیا اور بالآخر بازار چہ کے لیے سرکاری طور پر زمین الاٹ کیا گیا جس پر ایران نے بھی اپنے طرف سے بازار چہ کے لیے گیٹ کا کام مکمل کیا ہے اور پاکستان کی طرف سے پچھلے 6 مہینے سے کام مکمل ہو چکا ہے مگر پھر بھی حیلے بہانوں سے تجارتی گیٹ کو کاروبار کے بحال نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم پاکستان کے اس احکامات کی قدر کرتے ہیں کہ انہوں نے سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں میں تیزی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا ہے انہوں نے کہا کہ تفتان بھی ایک سرحدی شہر ہے جو ایران بارڈر سے منسلک ہے شرکا نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کیا کہ پاک ایران بارڈر پر رہنے والوں کو تجارتی سہولیات دی جائے اور ان کے لیے بازار چہ گیٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے بحال کیا جائے انہوں نے کہا کہ ضلع چاغی کے ہزاروں مزدور اور تاجر اس گیٹ کی بندش سے بے روزگار ہیں انہوں نے کہا کہ اگر 12 دسمبر تک بازار چہ گیٹ کو تجارتی سرگرمیوں کے بحال نہیں کیا گیا تو اس کے بعد ہمارا آخری آپشن پاک ایران ٹرانزٹ گیٹ اور سیندک کراس پر غیر معینہ مدت تک پہیہ جام ہڑتال ہوگی کیونکہ ہم اپنے حق کے لیے کسی بھی قربانی سے پھر دریغ نہیں کریں گے۔


