کیرتھر کینال میں زرعی پانی کا سنگین بحران، اوستہ محمد سے زمینداروں اور ہاریوں کا قافلہ سکھر بیراج پر دھرنے کیلئے روانہ

گنداخہ (نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع اوستا محمد سمیت کیرتھر کینال میں زرعی پانی کا سنگین بحران شدت اختیار کرگیا ہے، جس کے باعث ہزاروں ایکڑ پر کھڑی دھان اور دیگر موسمی فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ پانی کی مسلسل قلت کے خلاف کسانوں اور زمینداروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر معروف قبائلی و سماجی رہنما میر حسن خان شہلیانی جمالی کی قیادت میں ضلع اوستا محمد سے ہزاروں زمینداروں، کسانوں اور ہاریوں پر مشتمل ایک عظیم الشان قافلہ سکھر بیراج کی جانب روانہ ہوگیا، جہاں سندھ آبادگار تنظیموں کے رہنماﺅں کے ہمراہ زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم اور کیرتھر کینال کو اس کا جائز حصہ دلانے کے لیے تاریخی احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ قافلے کی روانگی کے موقع پر تحصیل پریس کلب گنداخہ سمیت مختلف میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میر حسن خان شہلیانی جمالی نے کہا کہ کیرتھر کینال میں سندھ بیراج سے زرعی پانی کی فراہمی بلوچستان کے کسانوں کا آئینی، قانونی اور تاریخی حق ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مسلسل ناانصافی، غیرمنصفانہ تقسیم اور انتظامی غفلت کے باعث ٹیل کے علاقوں کو ان کے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے جبکہ ہزاروں کسانوں کی سال بھر کی محنت اور اربوں روپے کی زرعی سرمایہ کاری تباہ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی صرف ایک زرعی ضرورت نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہے اگر کیرتھر کینال کو فوری طور پر اس کا مقررہ حصہ فراہم نہ کیا گیا تو نہ صرف زرعی شعبہ ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہوگا بلکہ پورے خطے میں معاشی اور سماجی بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ میر حسن خان شہلیانی جمالی نے وفاقی حکومت، حکومت سندھ، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اور متعلقہ آبپاشی حکام سے مطالبہ کیا کہ کیرتھر کینال میں فوری طور پر پانی چھوڑ کر بلوچستان کے کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کیا جائے اور پانی کی منصفانہ تقسیم کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زمیندار اور کسان اپنے آئینی و جمہوری حقوق کے حصول کے لیے ہر قانونی اور پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا، ہم کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے بلکہ اپنے آئینی اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کیرتھر کینال کو اس کا جائز حصہ دلوا کر رہیں گے، اور جب تک بلوچستان کے کسانوں کو ان کا حق نہیں ملتا، ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں