سندھ بلوچستان کے زمینداروں نے سکھر بیراج پر احتجاجی دھرنے دے دیا
اوستہ محمد(آن لائن) کھیرتھر کینال میں زرعی پانی کی قلت اور سندھ حکومت کی جانب سے کھیرتھر کینال کے حصے کا پانی نا دینے کے خلاف میر حسن خان شہلیانی کی قیادت میں سندھ بلوچستان کے زمینداروں نے سکھر بیراج پر احتجاجی دھرنے دے دیا دھرنے سے سربراہ جمالی اقوام ذوالفقار خان جمالی حاجی غلام مصطفی خان رند حسن خان شہلیانی خالد خان جمالی صابر خان پندرانی سرکردہ محمد صدیق عمرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت بلوچستان کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے کھیرتھر کینال کو اس کا پانی کا حصہ نہیں دے رہے کینال میں پانی کی شدید قلت ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کا گرین بیلٹ کہلانے والے نصیر آباد ڈویژن کی ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے علاقے میں پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے مال مویشی پیاس سے مررہے ہیں اور میت کو غسل دینے کے لیے بھی ہمارے پاس پانی نہیں ہے مجبور ہو کر ہم نے احتجاج کا دائرہ کار اپنایا ہے انہوں نے صد. آصف علی زرداری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ سندھ کی نا انصافی کا نوٹس لیں اور کھیرتھر کینال کو اس کے حصے کا پانی فرایم کرنے کے لیے عملی اقدام کریں علاوہ ازیں صوبائی وزرا میر صادق خان عمرانی میر سلیم خان کھوسہ اور محمد خان لہڑی نے سکھر پہنچ کر زمینداروں کے دھرنے میں مذاکرات کیئے تاہم صوبائی وزرا اور دھرنے کے شرکا کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ کار آمد ثابت نا ہو سکا۔


