گڈانی بیچ پر لاپتہ چار بچوں کو بچالیا گیا جبکہ ایک بچے کی لاش برآمد
حب (آن لائن) حب شہر رند مارکٹ رہائشی کے فیملی پکنک مناتے کیلئے ساحلی سمندر گڈانی نہاتے ہوئے انکے پانچ بچے ڈوب گئے تھے اطلاع ملتے ہی انتظامیہ،پاک فوج، پاک نیوی، لائف گارڈ، مقامی پولیس بروقت موقع پر پہنچ کر جن میں سے چار بچوں کو نیم بیہوشی حالت میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے بحفاظت بچا لیا یے جبکہ ایک پانج وا بچہ ابوبکر نامی تاحال لاپتہ تھا انہیں ڈھونڈنے کیلئے مزید ریسکیو آپریشن تیز کردی تھی ابوبکر بچے کی لاش سونمیانی بیچ سے برآمد کرلی ہے ڈپٹی کمشنر حب کے مطابق سرچ آپریشن اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ضلع حب انتظامیہ کی جانب سے گڈانی کے ساحلی علاقے میں ایک مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کردی جو اسسٹنٹ کمشنر وندر، چیئرمین گڈانی اور تحصیلدار گڈانی کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے اس آپریشن میں پاک فوج اور پاک بحریہ ریسکیو ٹیم بھرپور حصہ لیا تاہم پانچویں بچے کی لاش سونمیانی بیچ سے برآمد ہونے پر ریسکیو آپریشن اختتام پذیر ہوگیا۔ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ حب اس المناک واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت پیش کرتی ہے متاثرہ خاندان کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے ڈپٹی کمشنر حب نے کہا کہ میں حب شہر اور کراچی شہر کے عوام باالخصوص انکے اہلخانہ والدین سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ لوگ پکنک منانے کیلئے اتے وقت دریائے حب اور ساحلی سمندر گڈانی نہ جایا کریں والدین سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں غیر محفوظ مقامات، خصوصا ساحل سمندر پر اکیلا نہ چھوڑیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے آپکی تھوڑی سی غلفت اور لاپرواہی کی وجہ سے اپنے قیمتی جانوں سے ہاتھ دوھ بیٹھتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ حب کی جانب سے ضلع بھر میں باالخصوص دریائے حب اور ساحلی علاقہ گڈانی میں ساحل سمندر میں پکنک منانے اور بہانے پر مکمل پابندی عائد کر کے ہم دفعہ 114 نافذ کردی گئی ہے ہے۔حب شہریوں اور عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ حب سے خصوصی اپیل کی ہیکہ دریائے حب اور گڈانی سمندر ساحلی علاقوں میں مستقل بنیادوں پر ایمبولینس، 1122 ریسکیو اور ایمرجنسی سہولیات فراہم کی جائیں اور کراچی اور حب شہر سے آنے والے لوگوں کو شختی کے ساتھ عملدرآمد کرایا جائے انہیں آگے جانے نہ دیا جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے اور ڈوبنے والے لوگوں کو بروقت ریسکیو کرکے انہیں بچایا جاسکے۔


