پنجگور بارڈر کی بندش، ہزاروں لوگوں کے بیروزگار ہوجانے اور کوچ مافیا کیخلاف مستونگ میں احتجاجی ریلی
مستونگ (انتخاب نیوز) بلوچستان بیروزگار یونین کے زیر اہتمام چوٹے پیمانے پر روزگار سے منسلک ہزاروں لوگوں کے بیروزگار کئے جانے اور بیک اور کوچ مافیا کیخلاف نیو سبزی منڈی سے ریلی نکالی جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی سراوان پریس کلب پہنچ کر مظاہرے کی شکل اختیار کرگئی۔ مظاہرین سے بیروزگار یونین کے مرکزی صدر عبدالمالک شاہوانی، نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر حاجی نذیر احمد سرپرہ، سینئر رہنما و سابق سٹی ناظم میر سکندر خان ملازئی، پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری میر شکر خان رئیسانی، شمس اللہ کاکڑ، جنرل سیکرٹری عبیداللطیف شاہوانی، نائب صدر امان اللہ محمد حسنی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارڈرز سے چوٹے پیمانے پر تیل کی سپلائی کے روزگار سے منسلک لاکھوں نوجوانوں اور کوچ مافیا کی وجہ سے بیروزگار ہوگئے ہیں، سابق حکومت میں سخت احتجاج کے بعد حکومت نے لاکھوں تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کے ایرانی بارڈر سے پک اپ پروبکس جیسے چوٹے گاڑیوں میں چار ہزار لیٹر تک تک سپلائی کرنے کی اجازت دی تھی جبکہ چوٹی گاڑیوں کی آڑ میں 50/60 ہزار لیٹر تیل سپلائی کرنے والے ٹینکر، بیک اور کوچ مافیا اور سرمایہ داروں نے روزگار چھین لیا اور اب انہیں بیروزگار کردیا گیا ہے۔ بیروزگاری کی وجہ سے نوجوان طبقہ اپنے گھر کو چلانے کیلئے مجبوراً چوری چکاری میں ملوث ہوکر ایک بار پھر امن و امان کا مسئلہ خراب ہونے کا بھی اندیشہ پیدا ہوگا۔ نیشنل پارٹی اور لیبر یونین کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم بلوچستان میں جاری مظالم کو کسی صورت میں قبول نہیں کرینگے اور ہم ہر پلیٹ فارم پر بلوچستان کے ان ہزاروں بیروزگاروں کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان بیروزگاروں کو روزگار فراہم نہیں کرسکتی تو ہم سے ہمارا باعزت روزگار بھی نہ چھینے۔ انہوں نے کہاکہ بیک اور ٹینکر مافیاز کو حکومت نے کھلی چوٹ دے رکھی ہے اور ان سے بھاری بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ملک کے لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا، مگر یہاں اب الٹا برسر روزگار نوجوانوں سے انکا روزگار چھینا جارہا ہے جبکہ سابق حکومت میں عبدالقدوس بزنجو نے ہمیں اجازت دی تھی کہ چھوٹے پیمانے پر تیل کی سپلائی کریں مگر موجودہ صوبائی حکومت نے بڑے ٹینکرز مافیا کو اجازت دے کر ہمارے روزگار پر مسلط کیا، جس سے بلوچستان بھر کے ڈیڑھ لاکھ کے سے زائد نوجوان بیروزگار ہوگئے اور ہم جو باعزت طور پر روزگار کررہے تھے ہم سے ہمارا روزگار چھین کر ہمارے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا گیا۔ انھوں نے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، کورکمانڈر، آئی جی ایف سی، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگر حکام سے ٹینکرز و بیک مافیا اور کوچ مافیا پر پابندی عائد کرنے اور چھوٹے پیمانے پر تیل سپلائی کرنے والے بیروزگاروں کا روزگار بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔


