محمود خان اچکزئی کے نام کھلا خط
کامریڈ فقیر محمد بلوچ
محترم محمود خان اچکزئی صاحب چیئرمین پختونخوا ملی عوامی پارٹی بلوچستان
جناب محترم….!
آپ جب بھی بلوچستان کے پشتون علاقوں اورکوئٹہ میں اپنے والد کی برسی کے موقع پر عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہیں تو پشتونوں کے تاریخی قدیم ہمسایہ بلوچوں کے خلاف من حیث القوم لب کشائی کیوں کرتے ہیں آپ تو پاکستان میں بسنے والی چھوٹی اور کمزور اقوام کے حقوق کی علمبرداری کے دعویدار ہیں پھر یہ تعصب کیوں؟ آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آپ بلوچستان کی حلقہ انتخاب سے منتخب ہوکر اسمبلی جاتے ہیں۔ آپ کی شناخت بلوچستان سے ہے اس تناطر میں آپ پر اخلاقی طورپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ بلا رنگ و نسل ساری آبادی کی نمائندگی کا حق ادا کریں۔
2دسمبر 2015ءکو کوئٹہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے کہاکہ باچاخان ، ولی خان اور بلوچ لیڈر شپ کے ساتھ اس لئے رائیں جدا ہوئیں کیونکہ ہماری زمین ( جنوبی پشتونخواہ) کا انتقال کسی اور کے نام انتقال کیاجارہاتھا۔ ان رہنما?ں نے وہ وعدہ نہیں نبھایاجن کا ہم نے ملی کر نیشنل عوامی پارٹی کے پلیٹ فارم سے کیا تھا اور بلوچ قیادت کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔
محترم خان صاحب1948ئ میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے جو خود کو پشتون کہتا تھا چھوٹی قومیتوں پر پنجاب کی بالادستی قائم کرنے کے لئے مارشل لائ لگاکر ون یونٹ کا نظام نافذ کیا بعد میں عوامی تحریکوں کے دبا? میں آکر دوسرے فوجی نے ون یونٹ تھوڑ کر اپنے مرضی کے صوبے بنائے تاکہ لڑا? اور حکومت کرو کی پالیسی کا تسلسل جاری رہے۔
مگر بلوچ قیادت نے صوبوں کی ان حد بندیوں کو قبول نہیں کیا۔ کیونکہ نیشنل عوامی پارٹی کے منشور میں صوبوں کے از سر نو قومی و لسانی ، ثقافتی ، تاریخی اور جغرافیائی تشکیل کا شق شامل تھا۔ بلوچ قیادت پارٹی کے منشور اور پروگرام کی پابند تھی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مشترکہ جہدوجہد اور عوامی سطح پر تحریک چلانے کی ضرورت تھی۔ چونکہ مرحوم عبدالصمد خان اچکزئی مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے حامی تھے اسی مصلحت کے تحت مرحوم نے مرحوم خان عبدالولی خان اور اپنے تحریک کے دیرینہ بلوچ ساتھیوں سے اپنی رائیں جدا کر کے بھٹو جیسے فاشسٹ حکمران کا ساتھ دیا۔ جس نے نیپ پر پابندی لگوا کرقوم پرستوں کی طاقت کو کمزور کیا۔ پھر خان ون یونٹ کے حامی جام غلام قادر او رمیاں سیف اللہ خان پراچہ کے ساتھ جڑ گئے اور نیپ کی منتخب شدہ حکومت کو گرا نے کے لئے راہ ہموار کیا۔ جس کے بعد خیبر پختون خوا ہ اور بلوچستان میں بلوچ پشتون سیاسی کارکنوں پر بھٹو کا قہر نازل ہوا۔ اب آپ بلوچوں پر آنکھیں نکال کر فرماتے ہیں کہ جنوبی پشتونخواہ کا انتقال قبول نہیں۔ ہم واپس لے کر دکھائیں گے( بلوچستان پاکستان میں بسنے والے دو کروڑ بلوچوں کا وطن اور ان کی پہچان ہے جس کی خاطر وہ روز مر رہے ہیں )
سائنس کالج کوئٹہ میں آپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ میں نہیں کہتا 1907ئ میں انگریز نے کہا ہے کہ کوئٹہ بلوچوں کا نہیں ہے ….کیا؟اس خطے کی تاریخ 1907ئ سے شروع ہوتی ہے۔ انگریز جس کے توسیع پسندانہ عزائم و کردار کے باعث دنیا اسے استعمار کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ انگریز شاطر کی بنائی حد بندیوں کی کن بنیادوں پر مثالیں دے کر ان پر اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں۔انگریز نے جب اس
خطے پر اپنے پنجے گاڑھ دیئے تو اس نے نو آزاد اقوام کی زمینوں، علاقوں اور وسائل پر غاصبانہ قبضہ جماکر مقامی آبادی کو اپنا مطمع اور غلام بنا لیا اور قوموں کی تاریخی خطوں سے اپنی مرضی کے جغرافیائی تبدیلیاں لا کر لڑا? اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن تھا( پانچ سو سال قبل افریقہ ایک خطہ تھا انہی استعماری طاقتوں نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کی خاطر افریقہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا) آپ کن بنیادوں پر انگریز استعمار کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس خطے کی اپنی تاریخ کیا کہتی ہے ؟ ڈیورنڈ لائن کی لیکر بلوچوں نے نہیں انگریز کھینچ کر چلا گیا۔ اسی اجتماع میں آپ نے استعماری زبان استعمال کرتے ہوئے بلوچ قوم کو بلوچ براہوئی میں تقسیم کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ آپ کے ان جملوں سے لاکھوں بلوچوں کی دل آزاری ہوئی۔ بلوچوں نے کبھی پشتون ، پختون او رپٹھان کے نام سے پشتونوں کی تقسیم کی بات نہیں کی ہے۔ آپ تو اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر افغان کہتے ہیں۔ بلوچ تو صدیوں سے بلا کسی تعصب کے افغانستان ، کے پی کے اور بلوچستان میںبسنے والے پشتونوں کو افغان کہہ کر پکارتی ہے۔ حتیٰ کہ بلوچ خواتین بھی اوغان کہتی ہیں۔ آپ نے فرضی اعداد و شمار پیش کرکے یہ مفروضہ گڑ لیا کہ بلوچستان میں پشتونوں کی آبادی 50فیصد ہے۔ بلوچوں کی آبادی 45 فیصد ہے۔ جبکہ دیگر آبادی 5فیصد ہے۔ یہ تو پشتون قوم کی بلوچ قوم پر بالادستی حاصل کرنے کا خواب ہے جو آپ برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ کے اس فرضی اعداد و شمار کو مان بھی لیاجائے تو اقلیتی بلوچوں کو پشتونوں سے برابری کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ ایک اور موقعہ پر آپ نے یہ درست کہا کہ اپنا حق چھوڑنا بے غیرتی ہے۔مگر حق حاصل کرنے کے لئے بلوچوں ، فلسطینیوں اور کردوں کی طرح چلہ کاٹنا
پڑتا ہے۔ انگلیاں کٹوانی پڑتی ہے۔ زندانوں میں ایڑیاں رگڑ نا پڑتا ہے۔جائیدادیں ، کاروبار،گھر ، خاندان سمیت سب کچھ لٹوانے کے بعد زندگی کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔ اس کے لئے سیاسی و معاشی مراعات، وزراتوں اور آسودگی کی غلامی سے نکلنا ہوگا۔ مگر آپ نے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لئے باری باری کا مطالبہ کرکے اپنے والد محترم صمد خان اچکزئی کے ا س مطالبے کو دہرایا ہے جب خان نے 29مئی 1973ئ کو پریس کانفرنس میں کہاکہ اگر پشتونوں کو مطمئن کرنا ہے تو مجھے بلوچستان کا گورنر یا وزیراعلیٰ کا عہدہ دیا جائے یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔
2دسمبر 2021ئ کو آپ نے کہا کہ بلوچ رہنما?ں کے ساتھ برابری کے اصول طے کرنے کا وقت آگیا ہے کہ ہم مل بیٹھ کر یہ بات طے کرلیں کہ اس دو قومی صوبہ کی برابری کے اصول طے کریں۔ اگر خدانخواستہ ہم دونوں اقوام صوبے کی مشترکہ بنیادوں پر چلانے کے لئے متفق نہیں ہوتے تو یہ ہمارا حق ہے کہ برٹش بلوچستان پر مشتمل پشتون اکثریتی علاقوں پر اپنے صوبے کا مطالبہ کریں۔ 2 دسمبر 2022ئ کو کوئٹہ میں آ پ نے ایک مرتبہ پھر بلوچوں پر دبا? بڑھانے کے لئے برٹش بلوچستان کا ذکر کیا ہے۔ جب 18 ویں ترمیمی بل پر صوبوں کے اختیارات ، مسائل اور صوبوں کے لئے ناموں کی تجاویز پر جو کمیٹی کام کر رہی تھی اس میں آپ کا نمائندہ مرحوم سینیٹر رحیم مندوخیل بھی شامل تھے۔ جب صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ تجویز کیا جارہا تھا تو اس موقعہ پر رحیم مندوخیل نے بولان تا چترال صوبے کی بات نہیں کی بلکہ مرحوم نے کہا کہ بلوچستان کے پشتون الگ صوبہ نہیں چاہتے۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے۔
آپ کے ساتھ ہمیشہ سے یہ المیہ رہا ہے کہ آپ خود اپنے موقف کے بارے میں کنفیوزن کے شکارہیں کہ آپ چاہتے کیا ہیں بولان تا چترال صوبہ ، جنوبی پشتونخواہ صوبہ برٹش بلوچستان ، صوبہ کمشنری ، صوبہ افغانیاں ، صوبہ لربر پشتونستان
دریائے آمو سے دریائے سندھ تک ملکیت کا دعویٰ یا برابری ….؟ اس طرح تو آپ نے پشتون عوام کو بھی کنفیوز کردیا ہے۔ پشتون کا مسئلہ جنوبی ، شمالی نہیں ہے پشتون کا اصل مسئلہ ٹریڈ کا ہے۔ پشتون کا روباری مخلوق ہے وہ خشکی میں گرے ہوئے کابل کی منڈی کے لئے پاکستان کی وسیع منڈی کو کھونا نہیں چاہتا۔ بلوچستان کی کاروبارو معیشت پر پشتون بیٹھا ہے۔ بلوچستان کے ہر ضلع میں پشتون آزادی سے کاروبار کر رہے ہیں۔بلوچ کی حیثیت ایک صارف کی ہوکر رہ گئی ہے۔ بلوچ پشتون دکاندار وں کے مقروض رہے ہیں او ر آپ ان مقروضوں سے برابری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آپ نے 1990ئ میںبی بی سی کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بلوچ اتنے بے وسائل اور بدحال ہیں کہ ان کے پاس دو جوڑے کپڑے او رایک جوڑا چپل کے اور کوئی سرمایہ نہیں ہے۔
مرحوم خان عبدالغفارخان ، عبدالولی خان اور خان عبدالصمد خان آج بھی بلوچ عوام کے لئے قابل احترام ہیں۔ بلوچ عوام ان رہنما?ں کے فلسفے پر چل کر اپنی بقائ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ افغانستان بلوچوں کا دوسرا گھر ہے۔ بلوچ پشتون اقوام ایک مورچے میں بیٹھ کر استعمار کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں۔
میں نیشنل عوامی پارٹی کا ایک ادنیٰ سا رکن رہا ہوں 1970ئ کے انتخابات میں پہلی اور آخری بار نیشنل عوامی پارٹی کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال کیا اس کے بعد 52برسوں میں کسی سیاسی جماعت کے لئے ووٹ نہیں ڈالا۔


