ہرنائی واقعے پر حکومت کی 17 نکاتی رپورٹ پیش، کشیدگی کی وجہ سیکورٹی فورسز اور عوام کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان قرار

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان حکومت کی جانب سے ہرنائی واقعے کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانیوالی تحقیقاتی کمیٹی نے 17 نکات پر مشتمل اپنی رپورٹ جاری کردی ہے کمیٹی میں چیئرمین کمشنر سبی ڈویژن بالاچ عزیز ممبر ڈی آئی جی سبی رینج مسرور عالم کلاچی، ڈپٹی کمشنر ہرنائی رفیق ترین ایس پی ہرنائی محمد ہاشم شامل تھے جنکے دستخظ سے رپورٹ محکمہ داخلہ کے حوالے ارسال کردی رپورٹ میں واقعے سے لیکر تمام صورتحال علاقے کے حالات واقعات اور کشیدگی سمیت پائی جانیوالی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اسکے حل کیلئے 8نکاتی تجاویز پیش کی گئی کہ تحقیقاتی کمیٹی کے دوران ضلعی انتظامیہ سمیت سیکورٹی فورسز اور عام عوام کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، اسلئے ان تینوں کے درمیان خوست شاہرگ اور ہرنائی میں ایک ماہانہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ اعتماد سازی کی بحالی کے ذریعے اہمیت کے حامل مسائل غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اعتماد کے فروغ کیلئے تبادلہ خیال کرکے انکا حل نکالا جائے اگر ممکن ہے تو مقامی انتظامیہ کی مشاورت سے فوج، ایف سی کی پوسٹوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے جو وہ مناسب سمجھیں اور وہ مقامی آبادی سے دور ہوں تاکہ فائرنگ یا گولہ باری کے دوران شرپسندوں اور فورسسز کے درمیان واقع میں مقامی آبادی محفوظ رہے، مقامی آبادی روایتی قدامت پسند ماحول میں رہ رہی ہے اسلئے مقامی آبادی کی جانب سے ڈرون پروازوں کو برداشت نہیں کیا جاتا تاکہ ڈرون لوگوں کے گھروں پر نہ اُڑائے جائیں کہ اُنکی راز داری کو یقینی بنایا جاسکے۔ سیکورٹی کے تقاضوں کے مطابق انہیں آبادی سے دور کیا جاسکتا ہے کسی بھی آپریشن یا فلاحی سرگرمی سے قبل مقامی انتظامیہ کو ایف سی، فوج کے ذریعے آن بورڈ لینا چاہئے تاکہ علاقے کے لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مقامی انتظامیہ کے توسط سے ممکن بناتے ہوئے ڈاکٹرز اور اساتذہ کی اپنے اداروں میں موجودگی یقینی بنائیں خفیہ خدمات کی مدد سے رقوم کی خورد برد میں مصروف لوگوں کا سراغ لگا کر انہیں پکڑنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے اور لیویز تھانہ خوست کو ایڈجسٹ کیا جائے جو اسوقت اندرون خانہ ہے اور آرمی کمپاؤنڈ اپنے حصے کو الگ کرے تاکہ لوگوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوں ضروریات اور شکایات کا اندراج ہونا چاہیے، ہرنائی ضلع کے علاقے میں کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو ہائی ویز پر لیویز کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے گشت بڑھایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں