بلوچستان اسمبلی اجلاس، چمن میں افغان فورسز کی شہری آبادی پر گولہ باری کیخلاف قرار داد مذمت منظور نہ ہوسکی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کی جانب سے چمن میں افغان فورسز کی شہری آبادی پر گولہ باری کی مذمت کے لئے لائی گئی قرار داد مطلوبہ اکثریت نہ ملنے پر منظور نہیں کی جاسکی۔ جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سینئر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1دسمبر اور 15دسمبر 2022کو افغان سر حدی فورسز کی جانب سے چمن کے سر حدی سول آبادی پر بلا اشتعال بھاری ہتھیاروں سے گو لی باری جس کے نتیجے میں نہتے معصوم اوربے گناہ متعدد شہری جاں بحق اور کا فی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے دوسری جانب مسلسل گولہ باری کے بعد چمن شہراور اس کے مضافات میں خوف و ہراس پھیل گیا اور علا قے کے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ لہٰذا یہ ایوان افغان فورسز کی جانب سے چمن کے معصوم اور بے گناہ شہریوں پر بھاری ہتھیا وں سے گولہ باری کی اس بزدلانہ حملے کی نہ صرف پر زور الفاظ میں مذمت کر تا ہے بلکہ صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفا قی حکومت سے رجوع کر ے کہ وہ فی الفورافغان حکومت سے رابطہ کر ے اور انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی بابت سخت کاروائی اور اس بارے مستقل لائحہ عمل طے کرنے کی یقینی بنائے۔قرار داد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے نور محمد دمڑ نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایی ملک ہے ان سے ہمارے اچھے تعلقات رہے ہیں پاکستان نے مشکل وقت میں افغان مہاجرین کو سہولیات دیں اور انکے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستان نے افغان عوام کی منشاء کا احترام اور اسے تسلیم کیا ہمیں افغان بھائیوں سے توقع نہیں تھی کہ وہ اپنی توپوں کا رخ ہماری طرف کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنائیں گے جس سے کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ افغان فورسز اور حکومت کو پاکستان کے خلاف کرنے کے عمل کو ہوا دے رہے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کے رکن مولوی نور اللہ نے قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت انکی عوام کی ترجمان اور وارث حکومت ہے میں وزیر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قرار داد کو واپس لیں اور اپنی تقریر پر معذرت کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرکے اس عمل نے اسرائیل کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ قرار داد پر بات کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے رکن اسمبلی نصر اللہ زیرے نے تجویز دی کہ سرحد پر پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کیلئے صوبائی و قومی اسمبلی اور سینیٹر اور اراکین سینیٹ پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے جو پاک افغان سرحد پر واقعہ گزر گاہوں کا دورہ کرکے ان واقعات کی وجوہات کو جانے۔عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی نے قرار داد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چمن میں گولہ باری کے واقعات کے اصل محرکات اب تک معلوم نہیں ہوسکے ہیں ایسے معاملات پر قرار داد لانانا مناسب ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے خاموشی ہے اور گزشتہ روز معاملہ ختم کرلیا گیا ہے اس عمل کے مرتکب دونوں طرف ہیں ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ جھگڑا کس بات پر ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں یہ ریجیم لانے کے لئے ریاست نے 40سال لگائے اس دوران مذہبی انتہا پسندی، منشیات، اسلحہ کلچر سمیت دیگر جرائم کو اپنے ہی ملک میں فروغ دیا گیا جب مجاہدین کی حکومت بنی تو کہا گیا کہ جنرل ضیاء کاخواب پورا ہوگیا اور اب نئی افغان حکومت بننے پر اعلیٰ افسر نے فتح کا جشن کابل میں منایا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی خیبر پختوا سمیت دیگر علاقوں میں تخریب کاری کی لہر ہے، سی ٹی ڈی حملے کے بعد بیرسٹر سیف کون ہوتے کہ وہ تمام لوگوں کی بناء پر مذاکرات کر رہے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں