غیر قانونی عمارت، تجاوزات، پارکنگ کا سدباب ناگزیر ہے، کوئٹہ کو جدید شہر بنائیں گے، کمشنر کوئٹہ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں ٹریفک، پارکنگ، تجاوزات اور غیر قانونی بلڈنگ کے مسائل کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ایس ایس پی ٹریفک پولیس ملک جاوید، تمام اسسٹنٹ کمشنرز،کیوڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس سے کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا اس وقت کوئٹہ شہر ٹریفک جام،تجاوزات،پارکنگ اورغیر قانونی عمارات کی تعمیر سے پیدا ہوئے گمبھیر مسائل میں گھرا ہوا ہے جس کی وجہ سے عام عوام مشکلات سے دوچار ہے لہذا ان تمام مسائل کا سدباب کرنا ناگزیر ہے تاکہ کوئٹہ کو جدید اور بہترین شہر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی دیکھ بھال اور بہتری میں کارپوریشن کافی ہاتھ ہوتا ہے لہذا انہیں اب ایسے تمام اقدامات فوری کرنے پڑیں گے جس سے جلد از جلد ان مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوسکے۔شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور ہجوم کی اہم وجہ ایسی عمارات ہیں جن کی پارکنگ نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے پارکنگ کے لیے جگہ مختص کی ہیں اس کے علاوہ شہر بھر میں تعمیراتی کام جاری ہیں اور آئے روز نئی عمارتیں بنائی جارہی ہیں لیکن اب چونکہ اربن پلاننگ و ڈیزائن کمیٹی بنائی جا چکی ہے لہذا ایسی تمام عمارتیں جو زیر تعمیر ہیں اور ایسے تمام عمارتیں جن کی تعمیر کے لیے اجازت نامے موصول ہو چکے ہیں ان سب کا میٹروپولیٹن کارپوریشن ازسر نو جائزہ لیں تاکہ ان عمارتوں میں بلڈنگ کوڈ کی پاسداری، پارکنگ اور دیگر سہولیات کا مکمل جائزہ لیں۔ تعمیر شدہ عمارتوں میں پارکنگ کے علاؤہ کوئی اور مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے سکتا۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن اس بات کو باور کروانے کے پابند ہوگا کہ ایسی تمام پرانی عمارتیں اور نئی تعمیر ہونے والی عمارتیں اپنے تہ خانوں کو صرف اور صرف پارکنگ کے لیے استعمال میں لائیں گی اور تمام تر قواعد اور ضوابط کو چیک کرکے اور بلڈنگ کوڈ کے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے میٹروپولیٹن کارپوریشن ان کو این او سی جاری کریں گی غلفت کا مظاہرہ کرنے پر سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ میٹرو کارپوریشن تین دن کے اندر اندر اپنا تمام ریکارڈ چیک کریں اور تفصیلا رپورٹ مرتب کریں کہ ان کے پاس بلڈنگوں کی تعمیر کے حوالے سے کتنی درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور انہوں نے کتنوں کو این او سی جاری کیے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو این او سی دی گئی ہیں وہ قواعد و ضوابط کے حوالے سے ہر لحاظ سے ٹھیک ہیں یہ نہیں وگرنہ ایسی تمام عمارتیں خواہ وہ زیر تعمیر ہو یا جو مکمل ہو چکیں ہیں اگر وہ بلڈنگ کوڈز کے برعکس ہوئی تو انہیں سیل کر دیا جائے گا اور انہیں مسمار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا میٹرو پولیٹن کارپوریشن اپنے عملے کی تعداد بمعہ دستیاب مشینری، وسائل اور دیگر تمام تفصیلات سے آگاہ کریں اس کے علاوہ شہر میں کتنی لیگل پارکنگ موجود ہیں ان کے اجراء کب ہوئے انکی نیلامی کے ٹینڈرز کب کب ہوئے اس کا بھی تمام تر ریکارڈ پیش کیا جائے اور شہر بھر میں جتنی بھی پارکنگ ہے ان سے وصول ہونے والی رقم کا بھی حساب کتاب مہیا کیا جائے۔اس موقع پر میٹروپولیٹن کارپوریشن کے افسر نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ کو آگاہ کیا کہ شہر کے وسط میں سرکلر روڈ پر جو پارکنگ پلازہ قائم کیا گیا ہے اس میں 600گاڑیاں پارک کی جا رہی ہیں اس پارکنگ پلازہ میں کچھ تعمیراتی کام باقی ہے جس کی تکمیل سے پارکنگ کے لیے گاڑیوں کی گنجائش 800 سے زائد ہو جائیں گی ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کے عملے نے شہر بھر میں 6 مقامات کو نو پارکنگ ڈکلیئر کر دیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے اس طرح مٹن مارکیٹ کی پارکنگ میں 300 گاڑیوں کی گنجائش موجود ہے بلدیہ پلازہ میں 250 گاڑیوں کی گنجائش اور سو سے زائد موٹر سائیکل پارک کی جارہی ہیں۔ ایس پی ٹریفک پولیس نے کہا کہ شہر بھر میں تجاوزات کے خلاف میٹروپولیٹن کے عملے کے ساتھ مل کر کام جاری ہے جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی اسکے علاوہ سڑکوں سے ریڑھی بانوں کو ہٹانے کیلئے فوری ایکشن لیا جائے گا اور ان ریڑھی بانوں کو متبادل جگہیں فراہم کر دی جائی گی اس طرح ان کے روزگارمیں بھی کوئی حرج نہیں آ ئے گا اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمدو رفت بھی متاثر نہیں ہوگی۔ آخر میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ نے کہا کہ یہ شہر ہم سب کا مشترکہ ہے اور ہم سب نے مل کر ہی اس کو ان مسائل سے چھٹکارا دلانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں