بھتہ، بلیک میلنگ، تخریب کاری جیسے جرائم میں ملوث ٹی ٹی پی ارکان کی تعداد 7 سے 10 ہزار ہے، وفاقی وزیر داخلہ

اسلام آباد (انتخاب نیوز) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خطے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے تخریب کاروں کی تعداد 7 ہزار سے 10 ہزار کے درمیان ہے،ان میں پہلے ہتھیار ڈالنے والے بھی شامل ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ خطے میں کالعدم ٹی ٹی پی کے تخریب کاروں کی تعداد 7 ہزار سے 10 ہزار کے درمیان ہے اور ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ کی تعداد 25 ہزار ہے۔انہوں نے کہا کہ بھتہ اور بلیک میلنگ جیسے جرائم میں مقامی افراد بھی شامل ہیں اور الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت انہیں روکنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہاکہ اس کی سب سے بڑی وجہ خیبرپختونخوا حکومت اور محکمہ انسداد دہشت گردی کی ناکامی ہے کیونکہ روکنا ان کا کام تھا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی فوج ہے اور اگر صوبائی حکومت صورت حال سے نمٹ نہیں سکتی ہے تو وہ وفاقی حکومت سے درخواست کرسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج تخریب کاری کے اس طرح کے تمام جرائم سے نمٹے گی۔کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے مذاکرات اور سیز فائر اپنی بحالی کے لیے استعمال کرنے کے تاثر سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ گروپ کبھی منتشر نہیں ہوا اور افغانستان کی موجودہ حکومت مزید مضبوط ہوا۔ تخریب کاری کے بڑھتے ہوئے خدشات پر کثیرالجماعتی یا قومی سلامتی اجلاس کی تجویز پر اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اجلاس ہونے چاہئیں تاہم زور دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو پہلے وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو صوبے میں امن و امان کے حوالے سے وفاقی حکومت کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور مرکز سے جو تعاون درکار ہوگا اس کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ہمارے دو اجلاس ہوئے جہاں وزیراعلیٰ کو دعوت دی گئی لیکن وہ نہیں آئے کیونکہ وہ وفاقی دارالحکومت میں لانگ مارچ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور پارٹی سربراہ عمران خان کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی تھی۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی حالیہ آڈیولیکس کے حوالے سے ایک سوال پر رانا ثنااللہ نے کہا کہ جب ایک آدمی کو پرواہ نہ ہو اور شرم نہ ہو تو اس طرح کی چیزیں ریکارڈ ہو جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت ریکارڈ ہوئی ہیں جب ہمارا ان کے ساتھ کوئی تنازع نہیں تھا یا کسی اور کا بھی تنازع نہیں تھا اور اس وقت بطور پروجیکٹ سلیکٹ نہیں ہوا تھا۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ آڈیو لیکس آئیں تو فرانزک کراویا تھا وہ صحیح ہیں اور میرا نہیں خیال کہ ویڈیوز کو دیکھا جاسکتا ہے یا کوئی لیک کرکے کوئی مقصد حاصل کرے گا۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ ہمارے پاس نہیں ہیں اور ہم لیک نہیں کر رہے ہیں اور اگر میرے پاس ہوں تو میں لیک کرنے کے حق میں نہیں ہوں لیکن ایک آدمی کے پاس نہیں ہیں مختلف لوگوں کے پاس ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ غیرسیاسی لوگ ہیں اور ان کے دوسرے مقاصد بھی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں