ایرا ن،مو لوی عبدالحمید نے44سال پرانے آئین کو اپ ڈیٹ کرنےکا مطالبہ کر دیا

(تہران)ایران کے سنی عالم نے مظاہرین کو پھانسیاں دینے کی مخالفت اور مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے آئین کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ 44 سال پرانا آئین آج کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مولوی عبدالحمید ایران میں سب سے با اثر سنی عالم ہیں۔ وہ ایران کے جنوبی صوبے سیستان ایرانی بلوچستان کے رہائشی ہیں، جہاں مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مسلسل احتجاج جاری ہے۔زاہدان سمیت مختلف جگہوں پر مظاہرین ایرانی حکومت کے خلاف گلیوں میں نکل آتے ہیں۔ سیستان ایران کا سنی اکثریت کا صوبہ سمجھا جاتا ہے۔ مظاہرین سیکیورٹی فورسز کی سختی اور ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود احتجاج سے رکنے والے نہیں ہیں۔زاہدان سے متعلق سامنے آنے والی وڈیوز بھی ظاہر کرتی ہیں کہ مظاہرین گلیوں میں مارچ کر رہے ہیں۔ ایرانی رجیم کے علاوہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگارہے نظر آتے ہیں۔خامنہ ای قاتل ہے۔ اس کی حکومت غیر قانونی ہے۔ مولوی عبدالحمید نے مظاہرین کو گرفتار نہ کرنے، ان پر تشدد نہ کرنے اور انہیں پھانسیاں نہ دینے کا بھی ایرانی حکام سے مطالبہ کر چکے ہیں۔لیکن انہوں نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے جو بڑا اور نیا مطالبہ کیا وہ ایرانی آئین کو نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کا ہے۔ تاکہ نئی نسل کی ضروریات کی عکاسی ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل نئے حالات اور نئی ضرورتوں کے ساتھ ہے۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارا سارا آئین 44 سال پرانا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں