بلوچستان میں فورٹیفائیڈ آٹے کے استعمال کیلئے قانون سازی ہوچکی، نیوٹریشن انٹرنیشنل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیوٹریشن انٹر نیشنل کے پروگرام منیجر ڈاکٹر عرفان اللہ نے کہا ہے کہ وٹامنز کی گولیاں اورانجکشن لگوانے سے بہتر ہے کہ فورٹیفائیڈ آٹے کا استعمال کیا جائے،بلوچستان میں فورٹیفائیڈ آٹے کے استعمال کیلئے قانون سازی ہوچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے کوئٹہ میں محکمہ خوراک اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے اعلی افیسران اور ٹیکنکل ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا، نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے منعقدہ سالانہ کارکردگی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سابق بیوروکریٹ اور نیوٹریشن انٹرنیشنل کے قانون ماہر محسن عباس،بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشن محمد طارق، ڈائریکٹر ایڈمن محمد اسحاق بلوچ، ڈائریکٹر محکمہ خوراک رحیم بنگلزئی ڈائریکٹر ٹیکنیکل بی ایف اے شکیل بلوچ، نیوٹریشن انٹر نیشنل کے صوبائی پروگرام منیجر محمد قوی خان اور دیگر نے خطاب کیا نیوٹریشن انٹر نیشنل کے پروگرام منیجر ڈاکٹر عرفان اللہ نے کہا کہ نیوٹریشن انٹرنیشنل پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں مال نیوٹریشن پر کام کررہی ہے اور پاکستان میں زیادہ ترشہریوں کا رحجان آٹے کے استعمال پر ہے تو ہم نے پاکستان میں خصوصا آٹے میں وٹامنز شامل کرنے کیلئے حکومت کو معاونت فراہم کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سب سے اہم اور بڑا مسئلہ قانون سازی کا تھا جو مکمل ہوچکا ہے اب اس کی مانیٹرنگ بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک کے ذمہ ہے جس کیلئے آج یہ آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے کیونکہ بہتر نشونما سے ہی ہمارے بچے نہ صرف اعلی تعلیم حاصل کرسکیں گے بلکہ ان کا جسم تندست و توانا رہے گا بی ایف اے اور محکمہ خوراک کے ذمہ داران کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے نیوٹریشن انٹرنیشنل کے قانونی ماہر محسن عباس نے بتایا کہ ملک میں موجودہ مہنگائی کے باعث بڑی تعداد میں شہری اس قدر بہتر انداز میں غذا استعمال نہیں کرسکتے جن میں وٹامنز شامل ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہم وہ آٹے، گھی اور نمک استعمال کریں جن میں وٹمنز شامل ہیں اور نیوٹریشن انٹر نیشنل اور حکومت بلوچستان کے اس مشترکہ پروگرام سے سب سے زیادہ فائدہ غریب طبقے کو حاصل ہوگا اس موقع پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشن محمد طارق نے بتایا کہ قانون سازی کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو فورٹیفائیڈ آٹے کی دستیابی کو یقینی بنائیں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایڈمن محمد اسحاق نے بتایا کہ نیوٹریشن انٹر نیشنل کے اقدامات سے بلوچستان کے ہر طبقہ، خاص طور پر عورتوں اور بچوں کو فائدہ پہنچے گا جس کیلئے ضروری ہے فوڈ اتھارٹی کے مانیٹرنگ ٹیمیں اسے کار خیر سمجھتے ہوئے آگے بڑھائیں اور شہر میں فورٹیفائیڈ آٹے کی دستیابی اور استعمال کو یقینی بنائیں نیوٹریشن انٹر نیشنل کے صوبائی پروگرام منیجر محمد قوی خان نے آگاہی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے27 فلورز میں وٹامنز شامل کرکے اسے فورٹیفائیڈ آٹا بنانے کیلئے جدید مشینیں بھی عطیہ کی گئی ہیں نیوٹریشن انٹرنیشنل کی جانب سے فورٹیفائیڈفوڈ ہرشہری تک پہنچانے کا عزم اٹھارکھا ہے جس کیلئے بلوچستان حکومت سے قانون سازی کے بعد صوبے کے شہروں میں فورٹیفائیڈ آٹے کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اس حوالے سے محکمہ خوراک اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی سمیت ہر طبقہ فکر کے افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تقریب کے اختتام پر نیوٹریشن انٹر نیشنل کی جانب سے بلوچستان فوڈ اتھارٹی اور محکمہ خوراک کے اعلی آفیسران میں شیلڈ تقسیم کئے گئے۔


