جھل مگسی میں بجلی کی ہائی وولٹیج تاریں چوری، دو روز سے 50 ہزار سے زائد آبادی کو فراہمی منقطع
کوئٹہ(آئی این پی )بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداواہ میں دو روز تک مکمل بلیک آﺅٹ رہا اور 50 ہزار سے زائد آبادی اندھیرے میں ڈوبی رہی۔ میڈیارپورٹ کے مطابق پولیس کا کہناہے کہ ضلع کچھی کے علاقے بھاگ میں قائم گرڈ سٹیشن سے گنداواہ جانے والی 33 کے وی لائن کے 26 کھمبوں سے راتوں رات تاریں چوری کر لی گئیں جبکہ پانچ کھمبے بھی گرائے گئے جس کے بعد گنداواہ کی بجلی منقطع ہو گئی۔کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ یہ دو ماہ کے دوران دوسری بڑی چوری ہے۔ اس سے پہلے اسی علاقے میں لہڑی اور بھاگ فیڈر کے 24 کھمبوں سے تاریں چوری ہو چکی ہیں۔ پولیس میں مقدمہ درج ہوا لیکن ملزمان کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔افسر کے مطابق یہ کام ایک منظم گروہ کرتا ہے جو پہلے لائن میں فالٹ پیدا کرتا ہے اور بجلی بند ہونے کے بعد آسانی سے تاریں اتار لیتا ہے۔ چور جدید آلات استعمال کرتے ہیں اور بعض اوقات لوہے اور سیمنٹ کے کھمبے تک بھی گرا دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رات کے وقت سکیورٹی خدشات کی وجہ سے عملہ گشت نہیں کر پاتا اور چور اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بجلی منقطع کرنے کا طریقہ ایسا ہے کہ گرڈ سٹیشن کو فوری طور پر معلوم نہیں ہوتا اور جب ٹیم پہنچتی ہے تو چور فرار ہو چکے ہوتے ہیں۔کیسکو کے ترجمان نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ہفتہ واتور کی درمیانی شب بھاگ میں 26 کھمبوں سے کنڈکٹرز (بجلی کی تاریں ) چوری ہوئیں تاہم جھل مگسی سے متبادل لائن کے ذریعے گنداواہ کو عارضی طور پر بجلی دی جا رہی ہے۔ترجمان کے مطابق ہسپتال، سرکاری دفاتر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ متاثرہ لائن کی بحالی پر کام جاری ہے۔تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ متبادل لائن سے ملنے والی بجلی کا وولٹیج اتنا کم ہے کہ صرف بلب جل سکتے ہیں یا موبائل فون چارج ہو سکتے ہیں۔ گنداواہ کے رہائشی عبدالمجید لاشاری نے بتایا کہ تین دنوں سے واٹر سپلائی ٹیوب ویل بند ہیں جس کی وجہ سے شہر میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔کیسکو حکام کے مطابق یہ واقعہ انوکھا نہیں۔ حالیہ مہینوں میں بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع میں 11، 33 اور 132 کے وی کی مین ٹرانسمشن لائنوں سے بجلی کی تاریں اور دیگر برقی آلات چوری ہونے کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں اور اس میں کئی منظم گروہ ملوث ہیں۔


