بلوچستان میں اسمگلنگ کے سرپرستی حکومتی اور ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے، پیپلز پارٹی
قلات: پیپلز پارٹی ضلع قلات کے صدر ملک عصمت اللہ کھیازئی نے کہا ہے کہ یوریا، آٹا، چینی اسمگلنگ کا سلسلہ رک نہ سکا، پہلے بیلہ، وڈھ، نال، بسیمہ، خاران، شاہوگیری، یک مچھ، نوکنڈی کے راستے اسمگلنگ ہوتی تھی اب روٹ کو بدل کر وڈھ، خضدار، سوراب، قلات، مستونگ، کانک، ببری کا راستہ استعمال کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ ملک کے واحد لیڈر ہیں اس اسمگلنگ اور بھتہ مافیا کو بے نقاب کیا اور اس مافیا کے خلاف مسلسل جدوجہد کرکے مافیا کو روٹ بدلنے پر مجبور کر دیا یوریا اسمگلنگ کی وجہ سے آج یوریا اوپن مارکیٹ سے غائب ہے، زمیندار بلیک مارکیٹ سے مہنگے دام یوریا خرید نہیں سکتے اس لیے ملک بھر کے زرعی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی آسکتی ہے جس سے ملک کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے حب چوکی سے لے کر افغان بارڈر تک گاڑیوں کے سرعام قافلے کو افغانستان جاتے دیکھ کر دل خون کی آنسو روتا ہے، غریب بھوک سے مر رہے ہیں چند سرمایہ دار اپنے منافع کے لئے پورے ملک کے عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کر رہے ہیں اس اسمگلنگ کے سرپرستی حکومت بلوچستان اور ان تمام اضلاع کے انتظامیہ کر رہی ہے جدھر سے یوریا آٹا چینی سے لدے گاڑیاں گزر رہی ہیں محسوس ایسا ہوتا ہے پورے بلوچستان میں اس مافیا کا راج ہے حکومت اور انتظامیہ اس مافیا کے سامنے بے بس ہیں یا اس مافیا کا حصہ ہیں ملک عصمت اللہ نے زمیندار ایکشن کمیٹیز سے اپیل کرتے ہوئے کہا افغانستان یوریا آٹا چینی اسمگلنگ والے گاڑیاں جدھر سے گزر رہے ہیں وہاں کے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا جائے تاکہ ملک میں بڑھتے ہوئے غذائی قلت کو روکا جاسکے اس مافیا کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا فرض ہے اگر ہم نے آج مجرمانہ خاموشی اختیار کیا تو بھوک سے مرنے والوں کی قتل میں ہم سب شریک جرم ہونگے آج ملک جس مالی بحران سے گزر رہا ہے کسی حد تک اس بحران کا ذمہ دار یہ مافیا ہے قلات ڈویژن کے تمام منتخب نمائندے اس مافیا کے خلاف اقدامات کریں


