مراعات یافتہ طبقات نے مرکزی پارٹیوں میں کلیدی عہدوں پر قبضہ کر رکھا ہے، مختار یوسفزئی
کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شریک چیئر مین مختار خان یوسفزئی اور مرکزی سینئر سیکرٹری قادر آغا ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ غریب عوام پر مزید ٹیکس لگانے کی بجائے ملک کے اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقے پر ٹیکس لاگو کرکے دفاعی بجٹ اور اخراجات پر کٹ لگایا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک کے محکوم اور مظلوم عوام کو روز اول سے ہی تمام پالیسیوں میں نظر انداز کیا گیا ہے اور تمام مراعات کا رخ ملک کے با اثر سرمایہ داروں، جاگیرداروں ، ججوں ، دفاعی اداروں کے اعلی عہدیداروں بشمول جرنیلوں اور دیگر کی طرف کردیا گیا ہے جبکہ ان پالیسیوں کی بدولت مراعات یافتہ طبقوں نے سرکاری وسائل کے بل بوتے پر بڑے بڑے کاروبار کھڑے کر دیئے ہیں اور اپنے اپنے حیثیت اور عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دوران اربوں روپوں کے قرضے معاف بھی کروائے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔آ ج ملک کو دیوالیہ کرنے اور عوام پر بدترین معاشی حالت مسلط کرنے کی ذمہ دار یہی قوتیں ہیں۔ بدقسمتی سے ان مراعات یافتہ طبقات نے تمام مرکزی پارٹیوں میں کلیدی عہدوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور پارٹی فیصلوں پر ہر وقت اثر انداز ہوتے ہیں اور ان پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں جو غریب عوام کے مفاد میں ترتیب دیے جاتے ہیں بلکہ حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو وہ سرکاری وسائل سے مستفید ہوتے ہیں۔ جبکہ ان مرکزی پارٹیوں میں غریب کارکنوں کا کوئی پرسان حال نہیں، نہ انکی آواز کوکہیں پر سناجاتا ہے اور نہ ہی وہ ان عوام دشمن پالیسیوں اور منفی اقدامات کے خلاف اپنی اپنی پارٹیوں میں آواز اٹھاتے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری شدید مصائب اور مشکلات سے دوچار ہے اور آج دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان اور شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے۔ چونکہ آج بھی حکومت ان ہی قوتوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ سرمایہ داروں، جاگیرداروں، ججوں، جرنیلوں اور مراعات یافتہ طبقوں سے ٹیکس وصولی کی بجائےغریب عوام پر مسلسل مہنگائی کا بوجھ ڈال رہے ہیں جو بد ترین ظلم کے مترادف ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرکاری زمینوں پر قائم تمام کلبوں، گالف کلبوں اور خصوصی طور پر دفاعی اداروں کے کاروباروں کو سرکاری تحویل میں لیکر انکو نیلام کیا جائے اور اس آمدن سے ملک پر واجب الادا قرضے ادا کئے جائیں۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے کارخانہ داروں، جاگیرداروں پرٹیکس لاگو کی جائے اور اپنی حیثیت سے زائد غیر قانونی اثاثے بنانے والے تمام افراد سے رقم وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کی جائے۔ غریب عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کو کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جائیگا اور عوام کو متحرک کرکے بھر پور احتجاج کیا جائیگا اور عوام ان تمام پارٹیوں کا محاسبہ کریگی جو غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے ظلم میں شریک ہے۔


