بارکھان واقعے پر جے آئی ٹی تسلیم نہیں، بلوچ سرداروں کا جرگہ بلانے کا اختیار صرف خان آف قلات کے پاس ہے، کمال خان بنگلزئی

کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور اقوام بنگلزئی کے سربراہ سابق ایم این اے سردار کمال خان بنگلزئی نے سانحہ بارکھان پر افسوس اورغم و غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام اور نہ قبائلی رسم و رواج میں خواتین و معصوم بچوں پر جبر و ظلم کی اجازت ہے اور نہ ہی پاکستان کا آئین و قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا سن کر ملک میں ایک غم اور غصے کا طوفان برپا ہوا ہے ملک کے 22 کروڑ عوام ایک آواز ہو کر اس ظلم کا حساب مانگ رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے خلاف بلوچستان کے غیور عوام نے کسی بھی ظالم کے خلاف بغاوت کرنے سے کبھی گرہیز نہیں کیا۔ اور جب جب حاکمِ وقت نے ظلم کا ساتھ دیا عوام انصاف کے حصول کے لیے معاملات خود اپنے ہاتھوں میں لینے سے بالکل بھی نہیں ہچکچائے۔ سردار بنگلزئی نے اقوامِ مری کے سربراہوں سے بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب خاتون نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر فریاد کیا تو انہوں نے اپنے عزت کی رکھوالی کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھایا۔ اگر اس وقت اس خاتون کی فریاد پر کوئی ردِ عمل ہوتا تو شاید آج یہ افسوسناک واقعہ رونما نہیںہوتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قبائل کے سربراہ کا جرگہ بلانے کا اختیار صرف خان آف قلات کے پاس ہے اور ان کے علاوہ تمام سربراہان کو بلانے کا اختیار کوئی نہیں رکھتا۔ ہم خان آف قلات سے اس مسئلے پر ایک حقیقی جرگہ بلانے کا درخواست کرتے ہیں۔ اور جلد اس پر سراوان کے سرداروں کا ایک جرگہ بھی بلا کر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اربابِ اقتدار اور قانون اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے ہم سب کا ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کا کمیشن قائم کیا جائے اور اس کو چھوٹے سطح کا جے آئی ٹی بنا کر معاملے کو ٹالنے کی کوششیں ترک کی جائیں اور خان محمد مری کے باقی پانچ بچوں کو بازیاب کروا کر باپ کے حوالے کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں