بارکھان واقعہ، مری اتحاد کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد مظاہرین دو دھڑوں میں تقسیم، میتیں روک لیں
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بارکھان واقعے کے خلاف مظاہرین دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے، مری اتحاد نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تو مخالف گروپ نے میتیں روک لیں۔بارکھان واقعے کے خلاف دیا گیا دھرنا تنازع کا شکار ہو گیا۔ کوئٹہ میں خان آف قلات کے بھائی سینیٹر آغا عمر احمد زئی کی جانب سے ریڈزون میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم دوسرے گروپ نے دھرنا جاری رکھا اور بعد ازاں میتوں کا گھیراو کر لیا، دھرنا ختم کرنے کے مخالف گروپ کا مطالبہ ہے کہ عبدالرحمان کھیتران کو مقدمے میں نامزد کیا جائے۔یاد رہے کہ سردار عبدالرحمان کھیتران پر گراں ناز مری اور ان کے بیٹوں کو نجی جیل میں یرغمال بنانے اور قتل کا الزام ہے۔ چند روز قبل بلوچستان کے علاقے بارکھان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاشیں ملیں تھیں جس پر عبدالرحمان کھیتران کو حراست میں لیا گیا تھا، عدالت نے انہیں ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر رکھا ہے۔


