انسانی حقوق کی تنظیموں کا بارکھان واقعے اور بلوچ لاپتہ افراد کے معاملے پر مظاہرہ

کراچی (انتخاب نیوز) انسانی حقوق کی کارکن اور لاپتہ دین محمد بلوچ کی بیٹی سمیع دین بلوچ نے ریاستی تشدد، جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ بارکھان واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں قتل، نسل کشی یا جبری اغوا کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، یا پہلی بار کسی سردار کو اس طرح بے نقاب کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے جو برسوں سے موجود ہے۔ سمی دین بلوچ نے افسوس کا اظہار کیا کہ میڈیا نے صرف اس واقعہ کو اجاگر کیا جس میں سردار ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت کے خلاف مارچ کرتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں ترقی نہ ہونے کی ذمہ دار ریاست نہیں، یہ سردار اور نواب ہیں۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے گزشتہ روز کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے مرتکب افراد کو دیے جانے والے استثنیٰ کی مذمت کی۔ مظاہرہ عورت مارچ کے ذریعے سول سوسائٹی کی دیگر تنظیموں کے تعاون سے منظم کیا گیا، کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی ان متاثرین کے سوگ کے لیے کیا گیا جو تشدد کی کارروائیوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے تھے۔ سیاہ لباس میں ملبوس، شرکاءنے نعرے لگائے تیز ہو تیز ہو، جدوجہد تیز ہو، ہماری مزاحمت مضبوط ہو، ظلم کے یہ ضابطے، ہم نہیں مانتے۔ مظاہرین نے جبری گمشدگیوں کے خلاف بھی آواز بلند کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں