فوج کی مداخلت قبول کرکے پاکستان گیر پارٹیاں عوامی اعتماد کھو چکی ،مختار یوسفزئی

کوئٹہ :پاکستان گیر پارٹیاں عوامی اعتماد کھو چکی ہے ان پارٹیوں نے سیاست میں فوج اور اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کو قبول کر لیا ہے اور سیاست میں انکے دوغلے پن اور سودا بازی کے نتیجے میں آج ملک کو شدید سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے ان پارٹیوں کی سیاست پر مزید اعتبار کرنا سیاسی خودکشی اورتباہی کے سوا کچھ نہیں ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے پارٹی نوا کلی علا قائی کانفرنس سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جسکی سعادت حافظ احسان نے حاصل کی اور سٹیج سیکریٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکریٹری رحمت اللہ صابر نے ادا کئے علاقائی یونٹ کی سیاسی اور تنظیمی رپورٹ علاقائی سیکریٹری باچا خان نے پیش کی اور کانفرنس کے مندوبین نے اسکی منظوری دی اس موقع پر انتخابات عمل میں لائے گئے جس میں علاقائی سیکریٹری باچا خان کاکڑ سینئر معاون سیکریٹری عبدالباری جلالزئی معاون سیکریٹریز محمد دین خلجی، ڈاکٹر مہرام شاہ، داود آفریدی، حاجی عمر شاہ آفریدی، ذین اللہ رودوال، حیدر خان کاکڑ، عظیم اللہ کبزئی، حافظ احسان اللہ، یونس آغا، ملک احمد خان، حبیب شاہ آغا، ہارون لودھی، حاجی مرزا خان لالا، محمد حنفیا خلجی، داود شاہ ، بختیار خان، محمد آصف، اظہار احمد، طارق خان، یوسف جوزف، اکمل بازئی، صبور شاہ ، سمیع خان اچکزئی منتخب ہوئے نو منتخب عہدیداروں سے پارٹی کے صوبائی صدر ایم پی اے نصراللہ خان زیرے نے حلف لیاکانفرنس سے مرکزی سیکریٹری سردار گل مرجان کبزئی، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، خیبر پشتونخوا کے صوبائی سیکریٹری اشرف خان ہوتی، جنوبی پشتونخوا کے صوبائی سیکریٹری خوشحال کاسی، ڈپٹی سیکریٹری خلیل ترین نے بھی خطاب کیا۔مختار خان یوسفزئی نے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ27-28 دسمبر کو پارٹی کے کامیاب مرکزی کانگرس، اس کے بعد سندھ صوبائی کانفرنس اور مختلف ضلعی ، علاقائی اور ابتدائی یونٹوں کے کانفرنسز کے کامیاب انعقاد اور پارٹی میں ہمارے غیور عوام کی جوق در جوق شمولیت نے ہمیں ایک نیا جوش اور جذبہ بخشا ہے اس میں شک نہیں کہ ہمیں ہر طرف سے چیلنجز کا سامنا ہے اور اسکا مقابلہ منظم تنظیم، جوش و ولولے اور استقامت کے ساتھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ملک گیر پارٹیوں کی غیر سنجیدہ سیاست، اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت پر خاموشی اور انکی پردہ پوشی اور اقتدار کے لالچ میں ان سے سازباز اور سودا بازی نے اس ملک کو آج شدید بحرانوں اور تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ ملک کی یہ پارٹیاں عوامی اعتماد کھوچکی ہے اور ان پر مزید اعتبار کرنا اور انکے حق میں رائے استعمال کرنا ظلم کے مترادف ہوگا۔ ملک کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اب مقتدر قوتوں کیلئے انکا سنبھالنا ناممکن ہےجبکہ اب بھی ملک کے حقیقی مسائل جس میں قوموں کے حق خود ارادیت اور حق حاکمیت پر چشم پوشی اختیار کرکے مصنوعی طریقے سے حل ڈھونڈے جارہے ہیں جو مزید تباہی کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن میں سیاسی اور قومی شعور کافی حد تک بڑھ گیا ہے جو ہمیں حالیہ عوامی بیداری کی تحریکوں میں نظر آرہا ہے جو حوصلہ افزا ہے ۔ البتہ قومی تحریک پر اشرافیہ کے قبضے،ذاتی اور خاندانی مفادات کا حصول، عوام کی طاقت پر عدم بھروسہ اور جمہوری اصولوں سے روگردانی نے ہماری قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ہمارے قومی تحریک اور اس کی بے شمار قربانیوں کے مقابلے میں قوموں نے انتہائی کم عرصے میں آزادیاں حاصل کیں اور آج دنیا کے آزاد اور خودمختار قوموں کے صف میں کھڑے ہیں لیکن ہماری قوم کو آج بھی بقا کا مسلہ پیش ہے اور ہم کوامن کی بھیک مانگنے پر مجبور کردیا گیا ہے اور یہ ہمیں اپنے سیاسی، جمہوری جدوجہد سے دستبردار کرنے کی شعوری سازش ہے۔ ہم نے اپنے قومی سیاسی تحریک کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے اور ان تمام خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا ہے جو اب تک ہماری ناکامی کا سبب بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست معاشرے کے تضادات کو جانچنے اور انہیں حل کرنے کی راہ کا تعین کرتا ہے ہم نے اپنی صفوں کو منظم کرناہے اور مطالعے کو عادت بنانا ہے کیونکہ نظریے، شعور اور اگائی کے بغیر انقلاب ناممکن ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں