حکومت کی نااہلی، گوادر سے روزانہ لاکھوں بیرل ایرانی پیٹرول کی بیرون صوبہ اسمگلنگ جاری
گوادر (این این آئی) گوادر میں حکومتی سطح پر اقدامات نہ ہونے کے باعث روزانہ لاکھوں بیرل ایرانی پٹولیم مصنوعات بیرون صوبہ اسمگلنگ جاری،قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان، پاک ایران بارڈر کو قانونی تجارتی مرکز بنانے کی ضرورت ہے۔ غیر قانونی طریقے سے ایرانی اسمگلنگ شدہ پٹرولیم مصنوعات کے باعث ملکی زرمبادلہ نہ ہونے کا برابر،پاکستان کسٹم اور تدارک کرنے والے ادارے ایرانی تیل کی اسمگلنگ کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام۔تفصیلات کے مطابق گوادر سے بذریعہ کوسٹل ہائیوے پاکستان کسٹم کی نلینٹ،پسنی زیروپوائنٹ، اورماڑہ سے لیکر کورکیڈہ چیک پوسٹوں سے روزانہ لاکھوں بیرل ایرانی پٹولیم مصنوعات بیرون صوبہ اسمنگلنگ جارہی ہے جس پر پاکستان کسٹم کسی بھی قسم کی کاروائی کرنے سے قاصر ہے، گوادر سے بذریعہ مکران کوستل ہائیوے ایرانی پٹرولیم مصنوعات ملک بھر میں بہ آسانی اسمگل ہورہا ہے جس کے باعث ملکی و قومی خزانے کو ماہانہ اربوں روپے نقصان کا سامنا ہے،ایرانی تیل کی ترسیل بیرون صوبہ بدستور زور وشور سے جاری ہے محکمہ کسٹم اسمگلنگ کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے ذرائع کے مطابق تیل بردار گاڑیاں چیک پوسٹوں پر بھاری بھرکم بھتہ دے کر چیک پوسٹوں میں سے گزر جاتے ہیں اور رات کے اوقات ان چیک پوسٹوں پر تیل بردار گاڑیوں کا میلہ لگا رہتا ہے جبکہ متعلقہ محکموں کے سربراہان کا اس کے خلاف اقدامات نہ اٹھانے سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ ان چیک پوسٹوں پر اس دھندے میں ان کے ملوث ہونےکا اشارہ کر رہی ہے، اگر دیکھا جائے تیل کی اسمگلنگ نہ صرف قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ایرانی بارڈر سے متصل علاقوں میں بھی دور دراز کی نسبت ایرانی تیل مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے۔


