چینی اور یوریا اسمگلنگ کی آڑ میں چیک پوسٹوں پر مسافروں کی تذلیل بند کی جائے، آل کوئٹہ تفتان کوچز

کوئٹہ: آل کوئٹہ تفتان کوچز ٹرانسپورٹ یونین کے صدر حاجی ملک شاہ جمالدینی نے کہا ہے کہ رخشان ڈویژن کے تمام ٹرانسپورٹرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے چینی اور یوریا کھاد کی اسمگلنگ کی آڑ میں بسوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جوکہ نا قابل برداشت عمل ہے نوشکی تک دو درجن کے قریب چیک پوسٹ قائم کیا جا چکا ہے جن کا کام صرف بسوں میں سوار مسافروں عوام اور عملہ کو تنگ کرنا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جنرل سیکرٹری حاجی عبدالمالک محمد حسنی، انفارمیشن سیکرٹری و ترجمان میر ناصر شاہوانی بھی موجود تھے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ایک دفعہ پھر رخشان ڈویژن کے عوام اور ٹرانسپورٹروں کا معاشی قتل شروع کیا جا چکا ہے اینٹی اسمگلنگ کی آڑ میں مسافروں کی تذلیل کیا جا رہا ہے مسافر بسوں کے علاوہ کارگوں کی گاڑیوں کو بھی کئی گھنٹے روک کر کارگو نہ لانے کا کہتے ہیں، رخشان ڈویژن میں کے تین اضلاع خاران، نوشکی، چاغی کے لئے صرف یہ ایک ہی روٹ کوئٹہ سے استعمال ہوتا ہے ان اضلاع کے تاجر، سبزی منڈی، کریانہ اسٹورز کے لئے سامان لیجانے والے گاڑیوں کو بلا جواز تنگ کرتے ہیں گاڑیوں میں لوڈ، سبزی، پھل، فروٹس، پرچون وہ دیگر اشیا خوردنوش خراب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے رخشان ڈویژن کے عوام کا زریعہ معاش بارڈر سے وابستہ ہے لیکن ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت رخشان ڈویژن کے عوام کا زبردست معقشی قتل شروع کردیا گیا ہے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت اینٹی اسمگلنگ کے نام پر ٹرانسپورٹروں اور رخشان ڈویژن کے عوام کا معاشی قتل بند کرے اور نوشکی تک دو درجن کے قریب قائم چیک پوسٹوں پر کسٹم، ایف سی، لیویز اور پولیس عملہ کو سختی سے پابند کرے کہ وہ مسافروں کو تزلیل بند کرے اگر ہماری شنوائی نہیں ہوا تو ہم پورے رخشان ڈویژن میں غیر معینہ مدت کیلئے کوچ سروس بند کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں