جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کے نیجی جیل موجود ہیں، ہدایت الرحمن

گوادر : اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کے نجی جیلوں کی موجودگی حیران کن ہے، ایک طرف سردار و نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے تشدد کرتے ہیںان خیالات کا ظہار حق دو تحریک بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے کہاکہ اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کی نجی جیلوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نام نہاد سردار اور نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھنے اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے انسانیت سوز سلوک کرنے جیسے غیرانسانی عمل میں ملوث ہیںمولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے عوام سے اپیل کی ان نجی جیلوں اور انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرکے ثابت کریں کہ ہم کسی کے غلام نہیں بلکہ آزاد شہری ہیں اور مکمل اظہارِ رائے کا حق رکھتے ہیںگوادر (یو این اے) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ حس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کے نجی جیلوں کی موجودگی حیران کن ہے، ایک طرف سردار و نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے تشدد کرتے ہیں، حق دو تحریک بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کی نجی جیلوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نام نہاد سردار اور نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھنے اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے انسانیت سوز سلوک کرنے جیسے غیرانسانی عمل میں ملوث ہیںمولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے عوام سے اپیل کی ان نجی جیلوں اور انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرکے ثابت کریں کہ ہم کسی کے غلام نہیں بلکہ آزاد شہری ہیں اور مکمل اظہارِ رائے کا حق رکھتے ہیںگوادر (یو این اے) حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا ہے کہ حس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کے نجی جیلوں کی موجودگی حیران کن ہے، ایک طرف سردار و نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے تشدد کرتے ہیں، حق دو تحریک بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اس جدید دور میں بھی بلوچستان میں سرداروں اور نوابوں کی نجی جیلوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف نام نہاد سردار اور نواب عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں دوسری جانب اپنے ہی لوگوں کو غلام بنا کر رکھنے اور آواز اٹھانے والوں کو عقوبت خانوں میں بند کرکے انسانیت سوز سلوک کرنے جیسے غیرانسانی عمل میں ملوث ہیںمولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے عوام سے اپیل کی ان نجی جیلوں اور انسانیت سوز سلوک کرنے والوں کے خلاف آواز بلند کرکے ثابت کریں کہ ہم کسی کے غلام نہیں بلکہ آزاد شہری ہیں اور مکمل اظہارِ رائے کا حق رکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں