بلوچستان کے 150 نرسنگ کو اے ڈی پی ڈگری جاری کرنے کے احکامات سے طلبہ کا مستقبل محفوظ ہوگیا، سینیٹر جان محمد بلیدی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینیٹر جان محمد بلیدی، پارلیمانی لیڈر نیشنل پارٹی نے وفاقی وزیر برائے قومی صحت، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سید مصطفی کمال سے ملاقات کے دوران بلوچستان ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (BHCIP) کے تحت زیر تعلیم 150 نرسنگ طلبہ کا دیرینہ مسئلہ تفصیل سے پیش کیا۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ حکومت بلوچستان نے عالمی بینک کے تعاون سے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی فراہمی کے لیے اس پروگرام کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت 150 طلبہ کو ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام (ADP) ان نرسنگ میں داخلہ دیا گیا۔ تاہم بعد ازاں ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے یکطرفہ طور پر اس ڈگری پروگرام کو ٹریننگ پروگرام میں تبدیل کر دیا، جس کے نتیجے میں 47 طلبہ کو پاکستان نرسنگ کونسل میں رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا جبکہ تمام 150 طلبہ کی ڈگری اور پیشہ ورانہ مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سینیٹر جان محمد بلیدی، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صحت، وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی، سیکرٹری پاکستان نرسنگ کونسل، ڈائریکٹر جنرل (ایکریڈیٹیشن) ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد وفاقی وزیر صحت نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 47 متاثرہ طلبہ کو پاکستان نرسنگ کونسل میں رجسٹریشن کے لیے خصوصی اور یک وقتی اجازت دی جائے گی، جبکہ تمام 150 طلبہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کی ڈگری جاری کی جائے گی۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے بلوچستان کے طلبہ کے ایک نہایت اہم اور دیرینہ مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کیا، جس سے سینکڑوں خاندانوں کی تشویش کا خاتمہ ہوا اور طلبہ کا تعلیمی و پیشہ ورانہ مستقبل محفوظ ہو گیا۔ انہوں نے وزارت قومی صحت، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پاکستان نرسنگ کونسل، ہیلتھ سروسز اکیڈمی اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ اجلاس کے فیصلوں پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ متاثرہ طلبہ مزید کسی تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ یہ فیصلہ بلوچستان کے 150 طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے اور اس سے ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔


