ماہ رنگ بلوچ نے متعدد بار مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کردیا، سیکیورٹی حکام کا صحافیوں کو بریفنگ
ایکسپریس نیوز کے مطابق سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گولی نہیں مذاکرات سے امن آئے گا۔ سکیورٹی حکام سے پاکستان کے میڈیا نمائندگان کی خصوصی نشست ہوئی۔ سینئر سکیورٹی عہدیدار نے بلوچستان کے لیے ایک نئی سیاسی اور حکمت عملی پر مبنی روش اختیار کرنے کی اپیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن گولی نہیں مذاکرات سے آئے گا۔ صوبے کے پیچیدہ مسائل صرف طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتے اور آگے بڑھنے کا راستہ عام بلوچ لوگوں کے ساتھ مسلسل بات چیت میں مضمر ہے۔ ڈائیلاگ اب سردار نہیں عام لوگوں سے ہو رہے، پچھلے برس عوام سے 54 ہزار رواں برس 34 ہزار رابطے ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز صحافیوں کے وفد سے گفتگو میں سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ ہمیں بلوچستان میں جنگ نہیں، امن جیتنا ہے۔ یہ مسئلہ گولیوں سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل ہو گا۔ انہوں نے کہا اصل مسئلہ بیانیے کا ہے۔ اگر چہ بلوچستان کو در پیش چیلنجز سنگین تھے ، لیکن وہ ناقابل عبور نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سکیورٹی بحرانوں کے قلیل مدتی حل پر انحصار کرنے کے بجائے صوبے کے لیے ایک طویل مدتی سٹریٹجک ویڑن کی ضرورت ہے، جس میں ایک 10 سالہ منصوبہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی غدار نہیں ہے۔ 99.9 فیصد لوگ اتنے ہی محب وطن ہیں جتنے پاکستان کے دیگر حصوں کے لوگ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ صوبے کے لوگوں کی حقیقی شکایتیں تھیں، تاہم کچھ خدشات کو سیاسی مقاصد کے لیے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا یا ان کا استحصال کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان شکایتوں کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کو اپنے مفادات کے لیے صورت حال کا استحصال کرنے والی اشرافیہ اور سرداروں کے بجائے عام لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ حکام نے گزشتہ سال بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ تقریباً 54,000 اور اس سال مزید 34,000 ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام سے بات چیت کرتے ہیں، سرداروں سے نہیں۔ سکیورٹی عہدیدار نے محض معاشی محرومی کے ساتھ ساتھ سیاسی محرومی کو بھی بلوچستان کو در پیش مرکزی مسائل میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کے رقبے کا تقریباً نصف حصہ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں صوبے کی صرف 16 نشستیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخری بار کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان میں عوامی جلسہ کب کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کی عدم موجودگی نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا ہے جسے سوشل میڈیا کے ذریعے پروان چڑھنے والی سماجی تحریکیں اور بیانیے تیزی سے پڑ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ پارلیمنٹ میں بلوچوں کی آواز کی نمائندگی کم ہے۔ عہدیدار نے دستیاب مالیاتی وسائل کو ترقی میں منتقل ہونے سے روکنے کا ذمہ دار اشرافیہ کے قبضے اور کر پشن کو بھی ٹھہرایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے کی معیشت کا ایک بڑا حصہ تاریخی طور پر رسمی نظام سے باہر رہا ہے۔ انہوں نے کہا ک حکومت کو صوبے کے لیے ایک سٹریجگ ویڑن تیار کرنے اور ایک بنیادی سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان کب ترقی کرے گا؟۔ عہدیدار نے بلوچستان کوسٹر بیجنگ وسائل پر ابھرتے ہوئے مقابلے کے مرکز کے طور پر بیان کیا اور دلیل دی کہ صوبے کی معدنی دولت اور اس کے جغرافیائی موقع نے اسے علاقائی اور بین الا قوامی طاقتوں کی کشمکش کے سامنے حساس بنا دیا ہے۔ انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، کان کنی اور معدنیات اور صوبے کے سٹریٹجک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ صوبے میں سونا، تانبا اور نادر نایاب معد نیات کے زبر دست ذخائر موجود ہیں اور ان کی ممکنہ مالیت کا تخمینہ تقریباً 6 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ انہوں نے صوبے کی ماہی گیری، گیس کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل کا بھی ذکر کیا جواب تک غیر استعمال شدہ بڑے معاشی مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارو نہ بلاک میں سوئی سے کئی گنا بڑے گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن قبائلی مخالفت کے باعث کام ر±کا ہوا ہے۔ عہدیدار نے کہا جہاں بھی بڑے قدرتی وسائل دریافت ہوتے ہیں ، وہاں اکثر مقابلہ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے اور مقامی شکایتوں کا فائدہ اٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کو بڑی طاقتوں کے مقابلے کا شکار قرار دیا اور کہا کہ علاقائی رقابتوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے سکیورٹی آپریشنز کے ذریعے نمٹا جاتا رہے گا، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی کارروائی کے ساتھ ایک سیاسی حل بھی ہونا چاہیے۔ وسیع تر مقصد لوگوں کو سیاسی دھارے میں لانا ہے۔ عہدیدار نے خطرات کی چار وسیع اقسام کی نشاندہی کی۔ ان میں کائن بیٹک دہشت گردی، سوشل میڈیا مہمات سمیت نان کائن بیٹک سرگرمیاں ، سب کائن بیٹک سرگرمیاں اور سماجی طور پر خلل ڈالنے والے پروکسیز کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی پشت پناہی حاصل کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچ دہشت گر در ہنما ڈاکٹر اللہ نذر پڑوسی ممالک میں سے ایک میں چھپا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان نے مطلوب دہشت گردوں کی واپسی کی درخواست کی ہے اور متعدد دہشت گردوں کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اہلکار نے بلوچستان اور دیگر جگہوں پر دہشت گردی میں حالیہ اضافے کو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد کی پیش رفت سے جوڑا اور کہا کہ موجودہ سال بلوچستان میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی کا سب سے مہلک مرحلہ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 1,263 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے سمگلنگ مخالف کارروائیوں میں نمایاں بہتری کا بتایا اور کہا پہلے بلوچستان کے ذریعے تقریباً 1.2 ٹریلین روپے کی سمگلنگ ہو رہی تھی، لیکن اب اس میں سے تقریبا 90 فیصد کو روک دیا گیا ہے۔ ایرانی تیل کی سمگلنگ روزانہ تقریبا 2 کروڑ لیٹر سے ڈرامائی طور پر کم ہو کر تقریباً 10 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔ عہدیدار نے کہا صرف سکیورٹی اقدامات پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے سیاسی رابطے، ترقی، سکیورٹی اور سفارت کاری کو یکجا کرنے والی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مطلوب دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سفارتی سرگرمی بالخصوص ایران اور افغانستان کے ساتھ بھی فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست نے بلوچستان بھر میں لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے اور وہ ایسا کرنا جاری رکھے گی۔ بلوچستان کو گلے لگائیں۔ اگر مزاحمت کی جائے تو مزید مضبوطی سے گلے لگائیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ریاست کو ابھی تک اس بحران کا سیاسی حل تلاش کرنا باقی ہے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عام بلوچوں کو اپنے ساتھ ملانا ہی بالآخر کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تب جیتیں گے جب ہم عام بلوچ کو جیت لیں گے۔ عہدیدار نے بتایا کہ ماہ رنگ بلوچ کو گفتگو میںشامل کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن انہوں نے متعدد بار مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ بلوچستان کی امن وامان کی صورتحال پر سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بتدریج بہتر بنائی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لیے 10 سالہ منصوبے پر مرحلہ وار پیش رفت جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد تقریباً 7. 7 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ چھوڑا گیا۔ حکومت کی جانب سے ماضی میں دہشتگرد عناصر سے مذاکرات کی پالیسی بھی اپنائی گئی۔ بعض عناصر کو پہاڑوں سے نیچے لایا گیا، تاہم بعد ازاں وہ اپنی مرضی سے دوبارہ غائب ہو گئے۔ لاپتہ افراد کے معاملے پر سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت نے قانون سازی کی ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو حراست میں لیے جانے کے بعد اگلے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ گرفتار افراد کی ہر 15 روز بعد اہل خانہ سے ملاقات بھی کرائی جاتی ہے۔ ریاستی پالیسی اب سردار سے سرکار کی طرف جانے کی ہے۔ ہر ضلع میں عوام سے براہ راست رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ضلعی کو آرڈی نیشن کمیٹیاں بھی قائم ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے عوام کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ صوبے کے طلبہ کو ملک کے دیگر صوبوں میں تعلیم کے لیے وظائف بھی دیے جارہے ہیں۔ گوادر اور سی پیک کے حوالے سے سکیورٹی حکام نے بتایا کہ چینی ماہرین کا اپناڈیزائن ہے اور آئندہ چند برسوں میں گوادر کو مکمل طور پر آپریشنل کرنے کا منصوبہ ہے۔ جو لوگ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے ، ان کے معاملات کا فیصلہ عدالتوں میں ہو گا۔ مائنز اینڈ منرلز کے معاملے پر سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ بلوچستان میں بین الاقوامی معیار کے مطابق 50 فیصد حصہ داری کا اصول رکھا گیا ہے، جس کے تحت معد نیات نکالنے والی کمپنی کو 50 فیصد جبکہ باقی 50 فیصد میں 25 فیصد صوبائی اور 25 فیصد وفاقی حکومت کا حصہ ہو گا۔ دہشتگر در ہنما بشیر زیب افغانستان جبکہ اللہ نذر ایران میں موجود ہے۔ خطے میں ترکی ایسا ملک ہے جو بلوچستان میں کسی قسم کی گڑبڑ نہیں کر رہا۔ پاکستان ہر ملک کے ساتھ اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھ کر تعلقات آگے بڑھائے گا۔ انتظامی اصلاحات کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں تمام علاقے ”اے امیر یا “ قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بی ایریا ختم کیے جائیں گے۔ لیویز کے نظام کے حوالے سے حکام نے دعوی کیا کہ لیویز کے لیے مختص تقریباً 100 ارب روپے کے بجٹ میں سے نصف سے زیادہ رقم مبینہ طور پر سرداروں کی جیبوں میں جاتی رہی، اسی لیے پولیس کے نظام کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ بلوچستان کے صحت کے شعبے میں بھی اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صوبے کے ہسپتالوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور خراب مشینری کو درست کر کے غیر فعال طبی مراکز کو بھی آپریشنل کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی تعداد 92 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 12 ہزار ہو چکی ہے۔ بلوچستان میں بی ایل اے ، بی ایل ایف، ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 ہزار افراد سرگرم ہیں ، جو افغانستان اور ایران کے درمیان آمدورفت کرتے رہتے ہیں۔ صوبے میں ایم این ایز کی نشستوں میں اضافہ ہونا چاہیے کیونکہ قومی اسمبلی میں کم نمائندگی احساس کمتری کو جنم دیتی ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق معرکہ حق کے بعد 21 ہزار افراد سٹیڈیم میں جمع ہوئے جو عوامی سطح پر ریاست کے ساتھ وابستگی کی علامت ہے۔ بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بندر بیج بہتر بنایا جارہا ہے اور اس کے لیے 10 سالہ منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر مرحلہ وار عملدرآمد جاری رہے گا۔


