سیاسی مفادات کو ترجیح دینے والے عناصر کا عوام سے تعلق کمزور ہوچکا ہے،20ستمبر کی ریلی روزگار اور امن کی بحالی کی تحریک ہے، رحمت صالح بلوچ
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کی کیچ احتجاجی ریلی روٹی روزگار اور امن کی بحالی کی تحریک ہے۔ یہ کسی ایک جماعت یا شخصیت کی ریلی نہیں بلکہ کیچ کے ہر غریب مزدور کسان طالب علم اور تاجر کی آواز ہے۔ بارڈر کی بندش اور ٹوکن سسٹم کے باعث لاکھوں خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مکران کی معیشت کا بڑا دارومدار بارڈر تجارت پر ہے لیکن گزشتہ کئی ماہ سے بارڈر کی بندش اور ٹوکن سسٹم کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اس صورتحال سے بارڈر سے وابستہ بڑی تعداد میں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے اور کئی خاندان نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ایک طرف لوگ بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث فاقوں پر مجبور ہیں تو دوسری جانب ضلع کیچ میں چوری ڈکیتی موٹر سائیکل چھیننے گھروں میں وارداتوں فائرنگ اور اغوا برائے تاوان کے واقعات نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ شہریوں میں شدید عدم تحفظ پایا جاتا ہے جبکہ پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں۔ نیشنل پارٹی کا ہمیشہ سے مو¿قف رہا ہے کہ قومی اور عوامی مفادات کو ذاتی اور سیاسی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ اسی سوچ کے تحت 20 ستمبر کے احتجاج میں تمام سیاسی جماعتوں طلبہ تنظیموں مزدور یونینز وکلا تاجر برادری اور سول سوسائٹی کو مشترکہ عوامی ایجنڈے پر متحد ہوکر جدوجہد کی دعوت دی گئی ہے۔ ضلع کیچ کے عوام کو اس وقت امن و امان روزگار بارڈر تجارت کاروباری سرگرمیوں آزادانہ نقل و حرکت اور بنیادی شہری سہولیات سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے احتجاج کا راستہ آئینی جمہوری اور پرامن طریقہ ہے اور عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ کیچ میں دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بارڈر کاروبار انتہائی محدود ہے۔ صورتحال ایسی ہے کہ اسے عملاً بند قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ بارڈر سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا انحصار اسی کاروبار پر ہے اور اس کی بندش نے مقامی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ ضلع میں آئے روز چوری ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعات پیش آرہے ہیں جس کے باعث کوئی بھی شہری خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ امن و امان کی صورتحال سے عوام تنگ آچکے ہیں اور حکومت و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان مسائل کے حل کے لیے مو¿ثر اقدامات نظر نہیں آرہے۔پہلے احتجاج کی کال دینا اور بعد میں احتجاج کی مخالفت اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع کرنا غیر سنجیدہ سیاسی رویہ ہے۔ عوامی مسائل پر سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ بارڈر تجارت روزگار امن ترقی اور خوشحالی کے مسائل کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام کے مسائل ہیں۔انہوں نے بعض عناصر کی جانب سے احتجاج کی مخالفت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل سے خوفزدہ ہونے والے عناصر عوام کے سامنے اپنا کردار واضح کررہے ہیں۔ ان کے مطابق بارڈر ٹریڈ اور ٹوکن سسٹم سے وابستہ مفادات کے تحفظ کے لیے عوامی احتجاج کی مخالفت کی جارہی ہے۔ عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دینے والے عناصر کا عوام سے تعلق کمزور ہوچکا ہے۔ کیچ کے باشعور اور غیور عوام اپنے اجتماعی مفادات کے حوالے سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔20 ستمبر کی احتجاجی ریلی کا مقصد کسی فرد یا جماعت کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ کیچ کے عوام کے بنیادی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت کو امن روزگار بارڈر تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کی جانب متوجہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریلی کے ذریعے یہ واضح کیا جائے گا کہ کیچ کے عوام بدامنی بے روزگاری بارڈر کاروبار کی بندش شاہراہوں کی بندش اور دیگر مسائل کو مزید نظرانداز نہیں کرسکتے۔ عوام اپنے بچوں کے مستقبل روزگار اور جان و مال کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کریں گے۔انہوں نے کیچ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ 20 ستمبر کو اپنے گھروں سے نکلیں اور احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کیچ کے عوام اپنے اجتماعی مفادات روٹی روزگار امن اور اپنے بچوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد کا حصہ بنیں۔


