زیارت مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن حملہ، تحقیقاتی کمیشن کی کھلی عدالت میں سماعت، گواہان کے بیانات قلمبند
کوئٹہ( آئی این پی ) مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے آج مورخہ 19 ستمبر 2026 کو کھلی عدالت میں کمیشن کی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے سماعت کی۔سماعت کے دوران علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد پیش ہوئی، جن میں عبدالباقی، جو شہید اے ٹی ایف سپاہی جان داد خان کے بھائی ہیں، اور دیگر گواہان شامل تھے۔ عبدالباقی نے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے تحقیقاتی کمیشن کو ایک ایف آئی آر کی نقل پیش کی، جو سول ہسپتال کوئٹہ میں ان کے شہید بھائی جان داد خان کے جسدِ خاکی کی صفائی کے دوران شہید کے موبائل فون اور دیگر سامان کے چوریگم ہونے کے سلسلے میں متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی تھی۔ گواہ عبدالباقی نے تحقیقاتی کمیشن کو اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی فراہم کی۔علاوہ ازیں، 16 ستمبر 2026 کے ایک حکم کی تعمیل میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے صوبہ بلوچستان میں مدارس کے ضابطہ کار (ریگولیشن) کے طریقہ کار سے متعلق ایک جامع رپورٹ جمع کرائی۔ جس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم، جو وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ماتحت کام کرتا ہے، بلوچستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق ریکارڈ برقرار رکھنے والا ادارہ ہے، جس سے رجسٹرڈ مدارس کا تصدیق شدہ ریکارڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس پر تحقیقاتی کمیشن نے انچارج افسر، ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے دینی تعلیم، ریجنل آفس کوئٹہ کو کمیشن کی معاونت کے لیے کارروائی کی اگلی تاریخ پر ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ وہ اگلی سماعت پر بلوچستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل، مدارس کے ضابطہ کار کے طریقہ کار، بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی مصدقہ ضلع وار تفصیلات، اور اس بابت تصدیق، فنڈنگ اور نگرانی کے طریقہ کار کے بارے میں ایک جامع رپورٹ بھی جمع کرائیں۔مزید براں، حکومت بلوچستان کی جانب سے زیارت واقعہ کے شہداءکے لواحقین کے لیے اعلان کردہ شہداءمعاوضہ پیکیج کی فراہمی کے بارے میں تحقیقاتی کمیشن کے استفسار پر شہداءکے لواحقین کی نمائندگی کرنے والے وکیل حبیب اللہ خان ناصر نے بتایا کہ اعلان کردہ معاوضہ پیکیج اب تک کسی بھی خاندان کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے آگاہ کیا کہ تمام شہداءکے خاندانوں کے معاوضے کی ادائیگی کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور اگر اس سلسلے میں کسی کو بھی کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کے حل کے لیے ان کے دفتر سے رجوع کر سکتا ہے۔لہٰذا، تحقیقاتی کمیشن نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت جاری کی کہ وہ زیارت واقعہ کے شہداءکے لواحقین کے لیے اعلان کردہ شہداءپیکیج کی ادائیگی اور نفاذ سے متعلق مسائل کے حل کے لیے نسیم اللہ اور عزت اللہ، (شہداءکے لواحقین کے نمائندگان)، اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کے درمیان رابطہ قائم کروائیں، تاکہ اس معاملے کی فوری پیروی ہو سکے۔


