حب شہر، ساکران ،گڈانی اور مضافاتی علاقوں میں موسمی امراض پھوٹ پڑے ،
حب(نمائندہ انتخاب ) حب شہر ،ساکران ،گڈانی اور مضافاتی علاقوں میں موسمی امراض پھوٹ پڑے ، حب کے سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں او ر کلینکوں پر مریضوں کا رش بڑھ گیا ، حب ،ساکران کے گلی محلوں اور دیہی علاقوں میں قائم کلینکس کے ناتجربہ کار کمپوڈر نما عطاڈاکٹرز کی بھی چاندی لگ گئی تو ودسری جانب ڈاکٹرز نے مریضوں کے چیک اپ فیسوں میں بھی اضافہ کردیا ،بلیڈ پریشر چیک کرنے کا بھی 200روپے فیس مقرر کردیا گیا تفصیلات کے مطابق حب میں موسم میںمعمولی تبدیلی کے ساتھ حب شہر اور مضافاتی علاقوں میں موسمی امراض تیزی سے پھیلنے لگے سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں اور کلینکوں میں نزلہ زکام ،بخار ،دست الٹی کے مریضوں کا رش بڑھ گیا ڈاکٹرز کی چاندی لگ گئی اس حوالے سے حب و ساکران ،گڈانی کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موسم میں معمولی تبدیلی کے ساتھ ہی نزالہ زکام بخار سمیت دیگر موسمی امراض تیزی سے پھیلنے لگے ہیں بلخصوص معصوم بچے دست الٹی میں مبتلا ہو نے لگے ہیں موسمی امراض میں مبتلا مریض حب شہر سمیت ساکران ،گڈانی کے پرائیوٹ کلینکس کا رخ کرنے لگے سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں مریضوں کا بھی رش بڑھ گیا ہے مریضوں کی بڑھتی رش کا فائدہ اٹھا کر ڈاکٹر ز نے بھی چیک اپ فیسوں میں یکدم اضافہ کردیا ہے جن پرائیوٹ کلینکس میں اس سے قبل ڈاکٹر چیک اپ فیس 500روپے ہوا کرتا ہے اب بڑھا کر 1000روپے سے 1500اور 2000 روپے تک کردیا گیا ایک حتیٰ کہ بلڈپریشر چیک کرنے کا کہیں 200روپے تو کہیں 250روپے فیس مقرردی گئی ہے ایک جانب بیماری میں مبتلا مریضوں کو علاج معالجہ کروانے میں مشکلات کا سامنا تو دوسری جانب ڈاکٹرز کی جانب سے مقررہ کردہ چیک فیس اور ہزاروں روپے کی مختلف ادویات کی پرچی ہاتھوں میں تھما دیا جاتا ہے اور میڈیکل اسٹورز کی بھی لوٹ جاری ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حب شہر اور ساکران ،گڈانی کے مختلف علاقوں کی گلی محلوں اور دیہی علاقوں میں قائم کلینکس پر مبینہ طور پر کمپوڈر نما عطاء ڈاکٹرز کی بھرمار ہے محکمہ صحت کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں چند ماہ قبل محکمہ صحت کی جانب سے چند ایک کلینکس کے خلاف کاروائی اور کلینکس سیل کرنے کے بعد معاملات جوں کے توں ہیں اس حوالے سے حب ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت حب کے حکام سے اپیل ہے کہ وہ حب شہر اور ساکران و گڈانی کے مختلف گلی ،محلوں اور دیہی علاقوں میں قائم نجی کلینکس کی صفائی ستھرائی کا جائزہ لیا جائے اور کمپوڈرنما عطاڈاکٹرز کی چھان بین کی جائے اور ڈاکٹرز کی جانب سے مقررکردہ فیسوں کے حوالے سے نظر ثانی کرائی جائے تاکہ علاج معالجہ کے سلسلے میں اسپتالوں کا رخ کرنے والے کو مریضوں کو ریلیف مل سکے ۔


