وڈھ میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والےافراد بے گناہ تھے جو غلط اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے، وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ خضدار کے علاقے سونارو میں جاں بحق ہونے والے چار افراد بے گناہ تھے جو غلط اطلاع کی بنیاد پر مارے گئے۔انھوں نے یہ بات گزشتہ روز سعودی عرب سے وڈیو لنک کے ذریعے پاکستان کے دیگر صوبوں سے کوئٹہ آنے والے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
جمعرات کی شب ضلع خضدار میں وڈھ کے علاقے سونارو میں چار لوگ مارے گئے تھے جن میں ایک سات سالہ بچہ بھی شامل تھاجاں ہونے والے افراد کے رشتہ داروں اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے اس واقعے کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا تھا۔
اس واقعے کے خلاف لوگوں نے بطور احتجاج کوئٹہ کراچی شاہراہ کو کو سونارو اور وڈھ کے مقامات پر دھرنا دیکر بند کر دیا تھا۔
دھرنے کے باعث شاہراہ پر دونوں اطراف گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پھنس گئی جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاسنیچر کے روز ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی نے دھرنا کے شرکا سے مذاکرات کیے جس کے بعد دونوں مقامات سے دھرنے ختم کر دیے گئے۔
*صحافیوں سے گفتگو کے دوران اگرچہ اس واقعے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سے براہ راست سوال نہیں کیا گیا تاہم انھوں نے ضمناً اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں ایک مشکل صورتحال میں کام کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار شدت پسندوں کو بھرپور انداز میں جواب دیتے ہیں لیکن اس میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں تاکہ عام لوگ کا نقصان کم سے کم ہو۔وزیرِ اعلیٰ نے ان چار افراد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا تھا جس کے بعد اطلاع موصول ہوئی تھی کہ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر آ رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ مارے گئے۔سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماراے جانے والے افراد بے گناہ تھے اور ایک شادی سے واپس آرہے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کالعدم شدت پسند تنظیموں کے لوگ عام آدمیوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن۔


