گوادر سے جیونی تک دوسرے سرکٹ لائن منصوبے کیلئے 92کروڑ روپے منظور
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اور محصولات سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منگل کو یہاں منعقد ہوا ۔ ای سی سی نے اس موقع پر تکنیکی ضمنی گرانٹس پر غور کرتے ہوئے منظوری د یدی ۔جس میں میں دالبندین سے زیارت بلانوش 77 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کے لیے پی ایس ڈ ی پی 2022-23کے تحت 100ملین روپے گرانٹ کی منظوری دیدی گئی ۔ سیلاب 2022 کے دوران تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے این ایچ اے کو 1,666 ملین روپے کی منظوردی گی جبکہ روپے یوریا کھاد کی درآمد پر صوبوں کے ساتھ 50،50 کی بنیاد پر وفاقی حکومت کے حصے کی ادائیگی کے طورپر وزارت تجارت کو 5.57 بلین روپے کی منظوری بھی دیدی گئی ۔ ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کو مزید مشورہ دیا کہ وہ درآمدی یوریا پر صوبوں کی طرف سے قابل ادائیگی سبسڈی کی جلد منظوری کو یقینی بنائے۔ ای سی سی نے ملازمین سے متعلق اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وزیر اعظم کے معائنہ کمیشن کے لئے 17.3 ملین روپے کی گرانٹ منظور کرلی ۔علاوہ ازیں ترقیاتی منصوبے "جیوانی سے گوادر تک دو سری سرکٹ کی تعمیر” پر عملدرآمد کے لیے وزارت توانائی (پاور ڈویڑن) کےلئے 922 ملین روپے، جاری اسکیموں کے لیے ایس ڈی جی ایس اچیومنٹ پروگرام (ایس اے پی ) کے لیے کابینہ ڈویژن کے لئے 1 ارب روپے کی منظوری دی گئی ۔ایس او ایس چلڈرن ویلجز، پاکستان کے لیے وزارت برائے غربت کا خاتمہ اور سماجی تحفظ کے لئے 50 ملین روپے کی منظور ی کے ساتھ ساتھ رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی اشتہارات /آگاہی مہمات کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کے لئے 550 ملین روپے کی گرانٹ بھی منظور کرلی گئی ۔ای سی سی اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، ایس اے پی ایم برائے خزانہ طارق باجوہ، ایس اے پی ایم ، ریونیو طارق محمود پاشا، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے معیشت بلال اظہر کیانی، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل وفاقی سیکرٹریز اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔


