سندھ کا 22 کھرب 44 ارب کا بجٹ پیش، ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافہ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے 22 کھرب 44 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا، تنخواہوں میں 35 فیصد تک اور پنشن میں 17 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سندھ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ کا نئے مالی سال کا فنانس بل پیش کیا گیا جس کی سندھ کابینہ نے باضابطہ طور پر منظوری دے دی۔کابینہ نے گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک، 17 گریڈ سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اور پنشن کی مد میں 17 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔کابینہ اجلاس کے بعد سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بجٹ پیش کررہے ہیں کیوں کہ انہوں نے وزارت مالیات کا قلم دان اپنے پاس ہی رکھا ہے۔انہوں ںے بتایا کہ اس اسمبلی میں انہیں بارہویں بار یہ بجٹ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی سندھ کے ارکان اسمبلی غیرحاضر رہے جب کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی موجود ہیں۔سندھ کا ترقیاتی بجٹ 6 کھرب 89 ارب 10 کروڑ 30 لاکھ رکھا گیا ہے جس میں وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت سندھ کو دو کھرب 66 ارب 69 کروڑ روپے ملیں گے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 کھرب 80 ارب روپے مختص کیے ہیں۔بجٹ میں امن وامان کے لئے160ارب ، اسکول ایجوکیشن کے لئے16ارب پچاس کروڑ رکھنے کی تجویز ہے۔محکمہ بلدیات کاترقیاتی بجٹ 62ارب روپے کا ہوگا۔ کراچی کے میگامنصوبوں کے لئے 12 ارب 50 کروڑ رکھے جائیں گے۔ محکمہ ورکس کاترقیاتی بجٹ 90ارب رکھا گیا۔محکمہ صحت کے ترقیاتی بجٹ 44 ارب سے زائد روپے، محکمہ آبپاشی کے لئے 52 ارب روپے ، داخلہ کے لئے 11 ارب روپے رکھنے، محکمہ بلدیات کے لئے 111ارب روپے، ورکس اینڈ سروس کے لئے 109 ارب رکھنے کی تجویزہے۔ صوبائی ترقیاتی منصوبےکے لئے 697 ارب،غیر ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1411 ارب اور محکمہ تعلیم کے لئے مجموعی طور پر 353 ارب رکھنے کی تجویزہے۔


