کوئٹہ ،گھریلو ملازمین مزدوری نہیں غلامی کی جدید شکل ہے، آل پاکستان لیبر فیڈریشن

کوئٹہ(یو این اے )آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالستار نے کہا ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں گھریلو ملازمین موجود ہیں جو تنخواہ ،کام کے اوقات کار ، ورکنگ کنڈیشن،سازگار ، محفوظ اور صحت مند ماحول سمیت دیگر بے پناہ مسائل کا شکار ہیں جبکہ ای او بی آئی (اولڈ ایج بینیفٹ) اورسوشل سکیورٹی سے بھی محروم ہیں،افسوس ناک امر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ہوم بیسڈ ورکرز کی تعداد کا ڈیٹا ہی موجود نہیں،موجودہ صورتحال میں گھریلو ملازمین مزدوری نہیں بلکہ غلامی کی جدید شکل ہے لہذا عالمی کنونشنز اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی روشنی میںوفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوم بیسڈ ورکرز کے حوالے سے قانون سازی کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گھریلو ملازمین کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالستار کا کہنا تھا کہ ہوم بیسڈ ورکرز استحصال کا شکار ہیں، صنعتی مزدور کے حالات بھی ٹھیک نہیں، ورکنگ کنڈیشن، سیفٹی سٹینڈرڈز بالکل نہیں، وفاقی وصوبائی حکومتوں کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت بھی نہیں مل رہی، مالکان لیبر کا اندراج نہیں کرواتے جس کی وجہ سے مزدوروں کی بڑی تعداد ای او بی آئی (اولڈ ایج بینیفٹ) اور سوشل سکیورٹی سے محروم ہیں۔ٹریڈ یونین لیڈر عبدالستارنے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ محنت کش طبقے کو آئین پاکستان کے مطابق بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں ،لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم بنایا جائے، مزدوروں کو اجرت بذریعہ بینک دی جائے، کام کے اوقات کار ، سازگار ،صحت مند ماحول فراہم کیاجائے ،نئی لیبر پالیسی بنائی جائے ،گھریلو ملازمین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، ڈومیسٹک ورکرز کو ہنرمند بنانے کیلئے شارٹ کورسز کروائے جائیں کیونکہ محنت کش طبقے کو خوشحال بنائے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں