بلوچستان ہائیکورٹ کا مکران میڈیکل کالج اور تربت ٹیچنگ اسپتال کی اسامیوں پر حکم امتناع جاری
کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان ہائیکورٹ کے جحج جسٹس محمد نعیم افغان اور جسٹس محمد عامر رانا کی عدالت نے محکمہ صحت مکران میڈیکل کالج اور ٹیچنگ ہسپتال کیچ تربت کی خالی اسامیوں پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پرنسپل میڈیکل کالج مکران کی ہر قسم کے بھرتیوں اور ٹیسٹ انٹرویوز پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 16 اگست کو عدالت نے جواب طلب کیا ہے درخواست گزار نوید تاج نے ٹیچنگ ہسپتال کیچ تربت کو بھی ہر قسم کے ٹیسٹ انٹرویوز حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اسے بھی ٹیسٹ انٹرویوز سے روکنے کا حکم صادر فرمایا درخواست گزار کے وکیل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مکران میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال کے 525 کے قریب اسامیوں پر اشتہارات جاری ہوئے ہیں پورے بلوچستان سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں جب کہ قلیل مدت میں ہزاروں امیدواروں کا ایک دن ٹیسٹ اور دوسرے دن انٹرویوز لینا میرٹ نہیں بلکہ من پسند لوگوں کو سیاسی بنیادوں پر بھرتی کرنا ہے جو سپریم کورٹ کے ہائیکورٹ کے فیصلوں کی برعکس ہے درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر صحت جس کا تعلق مکران سے ہے اس قسم کے ٹیسٹ انٹرویوز کے انعقاد سے میرٹ اور لائق امیدواروں کی حق تلفی ہوگی درخواست گزار کے وکیل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ موجودہ حکومت 8 اگست کو تحلیل ہوجائیگی استدعا کی کہ ان اسامیوں کو روکا جائے جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 16 اگست کو چیف سیکرٹری بلوچستان سیکرٹری صحت ڈائریکٹر جنرل صحت پرنسپل میڈیکل کالج مکران اور ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کیچ تربت کو 16 اگست کو عدالت میں طلب کیا ہے۔


