خون کے آخری قطرے تک چرچل کے مجسمے کی حفاظت کروں گا:بورس جانسن

برطانیہ :برطانیہ کے وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ خون کے آخری قطرے تک پارلیمنٹ اسکوائر کے سامنے نصب ونسٹن چرچل کے مجسمے کی حفاظت کریں گے۔بورس جانسن کا یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب نسلی امتیار کے خلاف امریکہ سے شروع ہونے والے مظاہرے برطانیہ تک پہنچ گئے ہیں۔برطانیہ میں بھی غلامی کی علامت سمجھے جانے والے مجسمے ڈھائے جا رہے ہیں اور مجسموں کو گرانے کے مطالبات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ غلامی کی علامت سمجھے جانے والے تمام تاریخی شخصیات کے مجسمے گرا دیے جائیں گے جب کہ مظاہرین اسے برطانیہ میں ‘بلیک لائیوز میٹر’ تحریک کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔مظاہرین نے حال ہی میں برطانیہ کے جنوب مغربی شہر برسٹول میں نصب سترہویں صدر کے غلاموں کی تجارت کے لیے مشہور ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کا سر قلم کر دیا تھا۔قدامت پسند سابق برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر نصب مجسمے کو بھی بعض سماجی رہنما نسلی امتیاز کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم بورس جانسن نے اصرار کیا ہے کہ یہ مجسمہ اپنے مقام پر موجود رہنا چاہیے۔برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف گزشتہ کئی روز سے جاری احتجاج کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم کا پیر کو ٹیلی گراف اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ ہمیں ماضی کو دوبارہ یاد کرنے کے بجائے موجودہ حالات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ان کے بقول ہمیں کبھی اس ناختم ہونے والی بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں کہ کون سی تاریخی یا سیاسی شخصیات ہیں جنہیں مجسموں کی صورت میں عوام کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔لندن میں پارلیمنٹ اسکوائر کے سامنے موجود ونسٹن چرچل کے مجسمے کو گزشتہ ہفتے بعض افراد نے خراب کر دیا تھا جس کی حفاظت کے لیے اتوار کو دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ وہاں پہنچے تھے۔تاہم بورس جانسن نے ایسے افراد کو ‘ٹھگ’ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یہ سرا سر مضحکہ خیز ہے کہ ٹھگ ونسٹن چرچل کے مجسمے کی حفاظت کا منصوبہ لے کر لندن پہنچے تھے۔یاد رہے کہ بطور صحافی بورس جانسن برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کی سوانح بھی لکھ چکے ہیں۔نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والوں کا کہنا ہے کہ غلامی کی علامت سمجھے جانے والے تمام تاریخی شخصیات کے مجسمے گرا دیے جائیں گے۔نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلانے والوں کا کہنا ہے کہ غلامی کی علامت سمجھے جانے والے تمام تاریخی شخصیات کے مجسمے گرا دیے جائیں گے۔پیر کو اخبار میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ چرچل برطانیہ کے ایک ہیرو تھے جن کے مجسمے کی حفاظت اور دفاع کے لیے مزاحمت کرنے والوں میں صرف وہ اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ خون کے آخری قطرے تک وہ اس مجسمے کی حفاظت کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں اس علامتی حل کے بجائے اس مسئلے کی اصل وجہ سے نمٹنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔بورس جانسن نے مشورہ دیا کہ مجسموں کو گرانے کے بجائے نئی نسل کو تاریخی شخصیات کے مزید مجسمے نصب کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملازمت، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں عدم مساوات کے تمام پہلوؤں کو دیکھنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں