جھل مگسی میں امداد جویا کا قتل، سول سوسائٹی کا کوئٹہ میں احتجاج، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ

کوئٹہ (آن لائن) سول سوسائٹی کے زیر اہتمام جھل مگسی کے علاقے میں امداد جویا کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے درج تھے سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں نے مظاہرے سے قبل ٹیکسی اسٹینڈ سے ریلی نکالی جس میں سماجی کارکن ، وکلائ، طلباءسمیت مختلف طبقے کے لوگ شریک تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ جھل مگسی انتظامیہ علاقے میں غریب لوگوں اور کسانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ امداد جویا جوکہ کسان تھا جس کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا اس کو قتل کرنے میں علاقے کے با اثر شخصیات اور ان کے کاسہ لیسوں کا ہاتھ ہے یہی وجہ ہے کہ مقتول کی لاش اٹھانے کے لئے اس کے بچے اور اہل خانہ ، خواتین گئیں تو پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا لاش بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جارہی امداد جویا اپنی زمینوں کے لئے با اثر شخصیات سے لڑتا رہا حکومت اور ادارے اس مظالم پر آنکھیں بند کرکے تماشا دیکھتے رہے خواتین کے سینکڑوں لوگوں کے سامنے دوپٹے کھینچے گئے حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہم قبائلی عمائدین کے ساتھ ملکر کوئٹہ کراچی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کریں گے اگر متاثرہ خاندان کو انصاف نہ ملا مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی بازی کرتے ہوئے پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں