شنگھائی تعاون تنظیم افغان طالبان سے اپنے انسداد دہشت گردی وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرے، اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت دیگر تنظیمیں افغانستان سے سرگرم ہیں اور افغان طالبان کی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب میں افغانستان سے درپیش دہشت گردی کو خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور افغان طالبان کی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستان میں دو ہزار سے زائد دہشت گردی کے حملوں میں 560 سے زائد بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے جبکہ متعدد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔اسحاق ڈار نے زور دیا کہ ایس سی او افغان طالبان سے اپنے انسداد دہشت گردی وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرے۔نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کا خواہاں ہے اور مسائل کا واحد پائیدار حل مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں جون 2026 میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، عالمی برادری کو اس پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقل اور پائیدار امن کے لیے جاری سفارتی عمل کی حمایت کرنی چاہیے جبکہ ایسے عناصر سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جو امن کے عمل کو سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں۔


