مغربی بائی پاس پانچ سال بعد بھی نامکمل، انتظامیہ کی نااہلی نے کوئٹہ کی ٹریفک کو عذاب بنا دیا، ٹرک اونرز ایسوسی ایشن

کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر حاجی نور محمد شاہوانی، مرکزی سیکرٹری جعفر خان کاکڑ، حاجی روزی خان مندوخیل، حاجی عبدالمجید برکانی، حاجی محمد امین، حاجی داود کرد، ملک نور خان کرد، ظہیر شاہ یوسفزئی، سہیل خان کاکڑ، حاجی مراد خان، بابو جان رئیسانی، لالا قدیم، عبدالحق مینگل، محمد یونس اور دیگر ٹرانسپورٹرز نے اپنے مشترکہ بیان میں صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ مغربی بائی پاس منصوبہ پانچ سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔رہنما¶ں نے کہا کہ تقریباً 19 کلومیٹر طویل مغربی بائی پاس آج بھی بنیادی سہولیات اور اہم تعمیراتی کاموں کی تکمیل کا منتظر ہے۔ خصوصاً جبل نور فلائی اوور اور خیضی چوک فلائی اوور پر کام انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو عوام کو محض دعووں، بیانات اور سیاسی تنقید کے بجائے عملی ترقیاتی کام دکھانے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سے ہماری پرزور اپیل ہے کہ وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور غیر ضروری معاملات میں الجھنے کے بجائے صوبے کے بنیادی ترقیاتی مسائل، خصوصاً کوئٹہ کے اہم شاہراہوں اور ٹریفک کے مسائل پر فوری توجہ دیں۔ٹرانسپورٹر رہنما¶ں نے شدید الفاظ میں کہا کہ پانچ سال کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے معمولی مدت نہیں۔ اگر 19 کلومیٹر کا ایک اہم بائی پاس بھی برسوں میں مکمل نہیں ہو سکتا تو عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہونے والے اعلانات اور بجٹ کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ جبل نور اور خیضی چوک فلائی اوورز کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر نے عوام، ٹرانسپورٹرز، ڈرائیوروں اور مسافروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ آئے روز ٹریفک جام، حادثات، گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور دیگر سنگین مسائل معمول بن چکے ہیں۔ بھاری ٹرانسپورٹ گھنٹوں سڑکوں پر پھنسی رہتی ہے، جس سے نہ صرف وقت اور ایندھن کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ مغربی بائی پاس اب صرف ایک سڑک کا منصوبہ نہیں بلکہ عوام کے لیے روزانہ کا عذاب بن چکا ہے۔ حکومت کی مسلسل خاموشی اور سست روی ناقابلِ برداشت ہے۔ صوبائی حکومت فوری طور پر متعلقہ محکموں کو پابند کرے کہ جبل نور فلائی اوور اور خیضی چوک فلائی اوور سمیت مغربی بائی پاس کے تمام زیرِ تعمیر کاموں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز مزید تاخیر، وعدوں اور تسلیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ حکومت نے اگر فوری عملی اقدامات نہ کیے اور مغربی بائی پاس کی تعمیر و تکمیل کے حوالے سے واضح اور قابلِ عمل ٹائم لائن سامنے نہ لائی تو ٹرانسپورٹرز اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔رہنما¶ں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مغربی بائی پاس کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کریں، تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیں، متعلقہ حکام سے جواب طلب کریں اور جبل نور و خیضی چوک فلائی اوورز کو مقررہ مدت میں مکمل کروا کر عوام اور ٹرانسپورٹرز کو اس مستقل عذاب سے نجات دلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں