صرف مذمتی بیانات، رسمی اجلاس اور نمائشی کارروائیاں عوام کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتیں، پشتونخوانیپ
کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ پریس ریلیز میں ضلع برشور کی یونین کونسل شبک نارین کے علاقوں کلی شاسہ محمدزئی، چرمیان ، اور شاسہ اسماعیل زئی کے پہاڑی سلسلوں میں گزشتہ کئی روز سے درجنوں مسلح جھتوں کی موجودگی پر شدید تشویش، سخت احتجاج اور گہری اضطراب کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ صوبے اور جنوبی پشتونخوا میں ریاستی عملداری، قانون کی حکمرانی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے انتہائی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مقامی آبادی مسلسل یہ اطلاع دے رہی ہے کہ غیر مقامی مسلح جھتیں کئی دنوں سے مذکورہ علاقوں میں موجود ہیں، آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں اور مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ فورسز حساس اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی، متعدد چیک پوسٹوں اور سیکیورٹی کے باوجود نہ تو ان مسلح جھتوں کے خلاف نہ کوئی کاروئی ہوئی ہے اور نہ ہی حکومت نے عوام کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں اور نہ ان کی سرگرمیوں کی وضاحت کی گئی اور نہ ہی مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا گیا، جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ مسلح جھتیں واقعی ریاستی اداروں کی معلومات میں نہیں ہیں تو یہ سیکیورٹی اداروں اور حکومت کی بدترین ناکامی ہے، جبکہ اگر متعلقہ ادارے ان کی موجودگی سے آگاہ ہیں تو عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ یہ افراد کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، انہیں کس کی سرپرستی حاصل ہے، ان کے قیام، خوراک، رسد اور نقل و حرکت کا انتظام کون کر رہا ہے اور انہیں عوامی علاقوں میں سرگرمیوں کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی ہے۔ ان بنیادی سوالات کے جواب نہ دینا عوام کے اندر بے چینی، خوف، عدم اعتماد اور شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے کہا کہ برشور کا واقعہ کسی ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے صوبے ، بالخصوص پشتونخوا وطن میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کا تسلسل ہے۔ گزشتہ روز معزز سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی المناک شہادت، اس سے قبل زیارت، منگوچر، مستونگ، ہنہ اوڑک، قلعہ عبداللہ، ہرنائی ، شاہرگ ، پشین، کوئٹہ۔کراچی قومی شاہراہ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، شاہراہوں کی بندش، مسافروں کی شناخت کی بنیاد پر تلاشی، خواتین، بچوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل جیسے افسوسناک واقعات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال نہایت تشویشناک ہو چکی ہے اور عوام مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کچلاغ، ڑوب کی مرکزی شاہراہ پر گزشتہ شب مسلح جھتوں کی جانب سے شہریوں کو روک کر شناختی کارڈ چیک کرنا، اپنی مرضی کی ناکہ بندیاں قائم کرنا اور ضلع زیارت کچھ میں مسلح عناصر کی جانب سے "سروے” کے نام پر مقامی لوگوں کی زمینوں کی پیمائش کرنا انتہائی خطرناک، غیر قانونی اور ناقابلِ برداشت اقدامات ہیں۔ اگر مسلح گروہوں کو عوام کی نقل و حرکت، زمینوں اور شاہراہوں پر اس نوعیت کا اختیار حاصل ہو جائے جبکہ ریاست خاموش تماشائی بنی رہے تو یہ قانون کی حکمرانی اور آئینی نظام کے لیے انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں ہزاروں ایف سی اہلکار، پولیس، لیویز، متعدد سیکیورٹی ادارے، سینکڑوں چیک پوسٹیں اور سیکیورٹی کے نام پر کھربوں روپے کے سالانہ اخراجات ہونے کے باوجود اگر دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ خوری، شاہراہوں پر مسلح ناکے، لوٹ مار اور عوام میں عدم تحفظ بڑھتا جا رہا ہے تو اس کی سیاسی، انتظامی اور آئینی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ صرف مذمتی بیانات، رسمی اجلاس اور نمائشی کارروائیاں عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتیں، بلکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو عملی، مو¿ثر اور جوابدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ برشور، کچلاغ، زیارت، پشین اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مسلح جھتوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کی فوری، شفاف، غیر جانبدار اور عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں، ان کے تمام سہولت کاروں، سرپرستوں اور معاون عناصر کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، معزز سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ سمیت حالیہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور دیگر سنگین واقعات کی آزادانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے، اور صوبے بھر میں عوام کے جان و مال کے تحفظ، شاہراہوں پر آزادانہ آمدورفت اور ریاستی عملداری کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ آخر میں پریس ریلیز میں واضح کیا گیا کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مزید ناکام رہے اور عوام کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں اور عوام کے ساتھ مل کر ہر جمہوری، آئینی اور سیاسی فورم پر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے، عوامی رابطہ مہم تیز کرنے اور اپنے آئینی حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن جمہوری جدوجہد کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ پارٹی نے اس امر پر زور دیا کہ صوبے میں پائیدار امن، قانون کی بالادستی، عوامی تحفظ اور سیاسی استحکام کے بغیر نہ صوبہ ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔


