اسما جتک کے اغوا میں ملوث شخص بااثر سردار کا سکیورٹی گارڈ ہے، مولانا ہدایت الرحمان

تربت(مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر، حق دو تحریک کے سربراہ اور رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ 1948ءسے چلا آ رہا ہے اور اسے آج تک طاقت اور تشدد کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم بندوق، گولی اور گالی کی پالیسی سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد کی مقتدرہ آج بھی بلوچستان کو صوبہ نہیں بلکہ کالونی سمجھتی ہے اور بلوچستان کے عوام کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنما غلام یاسین بلوچ، پرویز علی، حاجی محمد عمر ودیگر ان کے ہمراہ تھے۔ ہم نے صرف ایک گھنٹے کا پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کی کوشش کی، جس کا مقصد بلوچستان کے مسائل اور عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنا تھا، لیکن اس احتجاج کو بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد کے طاقتور حلقوں کی سوچ میں آج بھی وہی ذہنیت موجود ہے جو 1971ءمیں بنگال کے معاملے میں اختیار کی گئی تھی، وقت گزرنے کے باوجود سوچ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقتدرہ بلوچستان کو کالونی سمجھتی ہے، یہاں کے عوام کی پاکستانیت اور حب الوطنی کو مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ بلوچستان کے معدنیات اور دیگر وسائل کو مالِ غنیمت سمجھ کر بے دریغ لوٹا جا رہا ہے اور وسائل پر قبضہ کرکے ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو بھوکا اور پیاسا رکھ کر محب وطن نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں ایسی ہیں جن سے عوام مزید مشکلات اور بھوک کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہمیں چہیتے ہونے کا الزام دیا جاتا ہے، لیکن نہ ہم چہیتے ہیں اور نہ ہمیں کوئی وزارت ملی ہے۔ ہم صرف عوام، سیاسی کارکنوں اور اپنے لوگوں کے چہیتے ہیں۔ ہم کسی کی ہدایت پر کام نہیں کرتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں سرکاری سرپرستی شامل ہے اور ایسی سرپرستی کے بغیر یہ واقعات ممکن نہیں، یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ اسماءجتک کے اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اغوا میں ملوث شخص کی تصاویر جس شخص کے ساتھ سامنے آئی ہیں، وہ بااثر سردار کا سکیورٹی گارڈ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بات اس امر کی جانب اشارہ نہیں کرتی کہ اس شخص کو کسی طاقتور کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں لوگ بات کرنے سے ڈرتے ہیں جبکہ جن لوگوں پر قتل کے الزامات ہیں وہ بااثر شخصیات کے گھروں میں موجود ہوتے ہیں۔ بارڈر کی بندش سے تقریباً 25 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حکومت ڈرامہ بازی کے بجائے عوام کے معاشی مسائل حل کرے۔ ہمیں 10 کلو آٹے کی خیرات نہیں چاہیے، بلکہ بارڈر کھولے جائیں تاکہ لوگ اپنے پاوں پر خود کھڑے ہو سکیں۔ایسا فیصلہ کرنے والے پاکستان کے دوست نہیں بلکہ ملک اور خصوصاً بلوچ و پشتون عوام کے دشمن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو معاشی طور پر مفلوج کرکے حب الوطنی کا درس نہیں دیا جا سکتا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں، جبکہ عوام کو بھی اپنے بنیادی حقوق کے لیے مو¿ثر اور پرامن جدوجہد کرنی چاہیے۔صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ صوبے بنانا بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں، اگر نیت درست ہو اور مقصد انتظامی سہولت ہو۔ دنیا کے تقریباً 170 ممالک آبادی کے اعتبار سے پنجاب سے چھوٹے ہیں، اس لیے انتظامی ضروریات کی بنیاد پر نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم ڈنڈے کے زور پر صوبے بنانا دانشمندی نہیں، ایسے فیصلے زبردستی کی آئینی ترمیم کے بجائے اتفاقِ رائے سے ہونے چاہئیں۔ نئے صوبوں کا قیام پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں باہم مل بیٹھ کر بات کریں اور اتفاقِ رائے سے مسئلہ حل کریں۔ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کے مخالف نہیں، لیکن طاقت اور زبردستی کے ذریعے صوبہ بنانا کسی صورت درست نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں