امداد جویا کی میت گاڑی کو جعفر آباد پولیس کی جانب سے چھیننا ظلم کی انتہا ہے، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن
بھاگ (آن لائن) کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک عابد خان کاکڑ ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری واجہ چنگیز حئی بلوچ ایڈوکیٹ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ظلم زیادتی سے انسانیت کی روح بھی کانپنے لگی قتل ہونے والے امداد علی جویا کی میت کی گاڑی جعفرآباد پولیس کیٹل فارم کے مقام پر چھین لی گئی دوسری جانب محکمہ صحت جعفرآباد و اوستہ محمد کے ملازمین نے ایمبولینس گاڑی دینے سے انکار کردیا، اور ان کے ورثہ پر جعفرآباد پولیس نے لاٹھی چارج کیا جبکہ میت کو پیدل خاتون خود کندھا دے کر پیدل بائی روڈ ڈیرہ مراد جمالی لے جارہے تھے مگر اس ظلم پر عوام کی خاموشی بھی ایک ظلم میں برابر کی شریک ہے۔ جب تک ہم سیاسی کلچر کو فروغ نہیں دیں گے تو بلوچستان کے تمام مسائل کا حل نوجوانوں پے ڈپینڈ کرتا ہے وہ سیاسی و شعوری طور پے آگے جائیں اور اس ظالمانہ جاگیرداری و قبائلی نظام ہے اس سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ، جویا فیملی جاگیردارانہ نظام کے خلاف کئی سال سے آواز بلند کر رہے ہیں، پولیس ریاستی ادارے مقامی کسانوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکے ہیں، جاگیرانہ نظام نے پولیس کو اپنی لونڈی بنا کہ رکھا ہے پولیس عوام کو تحفظ دینے کی بجائے ظلم کررہی ہے کسان امداد جویا کے لواحقین امداد جویا کی لاش نصیر آباد لیجانا چاہتے تھے لیکن جعفرآباد پولیس کی جانب سے خواتین بچوں پر لاٹھی چارج کیا گیا جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے بلوچستان حکومت کی خاموشی قابل مذمت ہے، پرامن احتجاج جویا فیملی کا بنیادی حق ہے جسے نصیرآباد انتظامیہ کی جانب سے بزور طاقت روکنا قابل مزمت ہے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج کرنے والوں پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔


