خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن میں ڈاکٹر کیساتھ لسانی امتیاز قابل مذمت ہے، ینگ ڈاکٹرز
کوئٹہ (آن لائن) ڈائریکٹر خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن کوئٹہ کا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سابق صدر کے ساتھ بطور مریض لسانی بنیادوں پر توہین آمیز رویہ اختیار کرنا اور لسانیت کو بنیاد بنا کے ان کے علاج سے انکار کرنے کا پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیںگزشتہ رات ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سابق صدر ڈاکٹر حمل بگٹی کی طبیعت ناساز ہونے پر انکو خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن لے جایا گیا مگر وہاں ڈیوٹی ڈاکٹرز نے ان کے علاج سے انکار کرکے ہسپتال سے نکال دیا اس واقعہ کے بعد جب ڈائریکٹر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مریض کا علاج کرنے کے بجائے الٹا ناروا سلوک اور بدتمیزی کرنا شروع کردی، ڈائریکٹر خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن کے اس غیر انسانی اور غیر مہذب رویہ کا پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں بطور ڈاکٹر ہم نے اس بات کا عہد کیا ہوا ہے کہ رنگ، نسل اور مذہب کا تفریق کئے بغیر مریض کو علاج فراہم کرنا ہے مگر خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن میں ڈائریکٹر کے ذمہ دار پوزیشن پر براجمان شخص کا مریضوں کے علاج میں لسانیات کا پرچار کرنا اس کی ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے، ایسے افراد ہمارے معاشرے میں نفرتوں کے بیج بو کر لسانی فسادات کا جڑ بنتے ہیں، جو بعد میں معاشرے کی تنزلی کا سبب بنتے ہیں ڈائریکٹر خمینی اسپتال ہزارہ ٹاﺅن کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ مریضوں کے علاج میں لسانیات کے پرچار سے باز آجائے، ڈاکٹروں اور عام عوام کے ساتھ اپنا رویہ درست کرے، اگر انہوں نے اپنے اس منفی کردار کو ترک نہ کیا تو ان کے خلاف احتجاج کا راستہ اپنا کر عوام کو ان کا مکروہ چہرہ دکھائیں گے بلاشبہ ہزارہ قوم ایک پرامن اور رنگ، نسل، مذہب کے تفریق سے بالاتر انسانیت دوست قوم ہے اس لیئے ہم اسپتال انتظامیہ، ہزارہ برادری کے سیاسی و سماجی رہنما اور معتبرین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ڈائریکٹر خمینی اسپتال ہزار ٹاﺅن کا مریضوں کے علاج میں لسانی رویہ اپنانے اور لسانیت کا پرچار کرنے پر ان کے اس منفی کردار پر ان کی جواب طلبی کرے اور ایسے شرپسند عناصر کو اسپتال کے اہم پوزیشن سے ہٹایا جائے جو بلوچستان کے برادر اقوام کے اتحاد اور اتفاق کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔


