پولیس گھروں پر چھاپے مار کر ہراساں اور لوٹ مار کررہی ہے، بیٹے کو بازیاب کرایا جائے، متاثرہ خاتون
تمبو (آن لائن) سردار زادہ مرحوم میر سلیمان خان شر کی اہلیہ محترمہ در بی بی اپنی دیگر خواتین اور بچوں کے ہمراہ انصاف کے حصول کے لئے ڈیرہ مراد جمالی پریس کلب پہنچ گئی جہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ شب کوئٹہ پولیس اور سی ٹی ڈی نصیرآباد نے مشترکہ طور پر ہمارے گوٹھ سردار اللہ ورایا خان شر میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے گھروں میں دھاوا بول دیا خواتین بچوں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا، اور ناحق میرے بیٹے شفیع محمد 14 سالہ طالب علم عبدالنبی اور مہمان صدام حسین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، واقعہ کے خلاف آج پٹ فیڈر کینال پل پر احتجاج کرتے ہوئے سندھ بلوچستان شاہراہ کو بھی بند کردیا لیکن نصیرآباد پولیس نے ہمیں یقین دہانی کروائی جس پر احتجاج کو موخر کردیا۔ انہوں نے کہا کوئٹہ پولیس بلاوجہ مسلسل گھروں میں چھاپے مار کر ہمیں حراساں کررہی ہے ہمارے لڑکوں پر کسی بھی قسم کا کوئی مقدمہ تک نہیں ہمارا کیا قصور ہے ہم سردار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، ہمارے تقدس کو مسلسل پامال کیا جارہا ہے جوکہ ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کی انتہا ہے انہوں نے بتایا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران 3 افراد کی ناجائز گرفتاری کے ساتھ 15 تولہ سونے کے زیورات 6 لاکھ سے زائد نقدی رقم، لائسنس یافتہ اسلحہ میں 3 پسٹل، ا ڈبل بیرل شارٹ گن اور روگر گن بھی اپنے ساتھ لے گئے ریاست کے اولین فرائض میں شامل ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن پولیس نے ہمارے لئے زمین تنگ کردی ہے اور ہم سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ہم کوئی دہشت گرد یا چور ڈاکو نہیں جو پولیس ہمیں بلاوجہ حراساں کررہی ہے، انہوں نے وزیر اعلی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی، آئی جی پولیس بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ میر زبیر احمد جمالی سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے خلاف پولیس چھاپے بند کرکے فوری طور پر ناجائز کئے گئے گرفتار افراد کو رہا کیا جائے اور لوٹا گیا ہمارا قیمتی سامان واپس کیا جائے بصورت دیگر ہم انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔


