بلوچستان کے لوگوں کو بھی انسان سمجھا جائے، مستونگ میں میلاد النبی جلوس کو سیکورٹی نہیں دی گئی، سنی تحریک
کوئٹہ (آن لائن) مرکزی صدر پاکستان سنی تحریک ثروت اعجاز قادری نے سانحہ مستونگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت شہدائ کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے فی کس ادا کریں اور علمائ کرام اہلسنت کی سیکورٹی کو فول پروف بنایا جائے عید میلاد النبی کے جلوس میں 70 لوگوں کی شہادت کے باوجود کوئی شنوائی نہیں۔ وزیر اعظم ، داخلہ اور چیئر مین سینٹ بلوچستان سے ہونے کے باوجود کوئی داد رسی نہیں ہورہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار منگل کو دورہ کوئٹہ کے دوران وحدت کالونی کے مدرسہ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ عید میلاد جشن آئین کا حصہ ہے پاکستان کیلئے اہل سنت کی قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہےں۔ راتوں رات بلوچستان آنے کا مقصد لوگوں سے ملنا ہے۔ لاشیں اٹھانے کے بعد بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگارہے ہیں۔ ہمیں بتایا جائے کہ ہمارا قصور کیا ہے۔ انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔عید میلاد النبی کے موقع پر جلوس کو کوئی سیکورٹی نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اتنا بڑا سانحہ رونما ہوا کیونکہ جلوس سے قبل لوگوں کے مجمع کے موقع پر دور دور تک سیکورٹی نظر نہیں آرہی تھی سیکورٹی صرف دہشتگردوں کیلئے ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ کیا لاشیں رکھ کر ہم بھی آپکو بلائیں۔ اور انصاف کے حصول کے لئے احتجاج کا راستہ اختیار کریں تمام علمائ اہل سنت کو سیکورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 70 افراد شہید ہوئے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی حالانکہ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ،وفاقی وزیرداخلہ میر سرفراز احمد بگٹی ، چیئرمین سینیٹ میر صادق سنجرانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات کا تعلق بلوچستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ فوری طور پر شہدائ کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کریں۔ آج بھی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم توجہ اور سیکورٹی کے موثر انتظامات نہ ہونے ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے بلوچستان کے لوگ روز لاشیں اٹھاتے ہیں بلوچستان کے لوگوں کو بھی انسان سمجھا جائے اور ان کے تحفظ کے لئے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عید میلاد جشن آئین کا حصہ ہے۔ پاکستان کیلئے اہل سنت کی قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہےں۔


