مستونگ، منشیات کا گڑھ بن گیا

مستونگ;مستونگ میں منشیات کی بڑھتی ہوئی رجحان نے خطرناک صورت اختیار کر لی ہے یہ زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اس حوالے سے انتظامیہ کی چشم پوشی لمحہ فکریہ ہے،تفصیلا ت کے مطا بق مستونگ میں نوجوان لڑکے لڑکیاں تیزی سے منشیات میں مبتلا ہو رہے ہیں جو خوفناک امر ہے آج منشیات کے خلاف عالمی سطح پر ورلڈ منشیات ڈے منایاجارہاہیں اور عالمی سطح پر باشعور اقوام منشیات کی لعنت کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔منشیات وہ لعنت ہے جس کی وجہ سے گھروں کے چراغ تباہ ہوکر تاریکی میں جارہے ہیں منشیات کی لعنت میں مبتلا عادی افراد کے علاج کیلئے کچھ کرنے کے بجائے ان سے سماجی دوری اختیار کی جاتی ہے جس کی وجہ سے منشیات کی لعنت میں مبتلا نوجوان مزید مایوسی کا شکار ہوکر مزید غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ہمیں چائیے کہ منشیات کی لعنت میں مبتلا اپنے پیاروں کو کائل کریں اور انکا علاج کرکے انہیں دوبارہ معاشرہ میں عزت سے جینے میں مدد کریں۔منشیات کی لعنت کے خلاف حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اقدامات اٹھانے کے بجائے ان کے کاروبار کی تحفظ کیلئے بھتہ خوری کرتے رہتے ہیں۔مستونگ شہر و دیگر علاقوں میں منشیات کے اڈے قائم ہے اور تو اور رکشہ اور موٹرسائیکلوں کے زریعے ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی دے رہے ہیں ہا ئی وے پر قائم کئی ہوٹلز اور مختلف مقام پر منشیات فروخت کی جاتی ہیں مستونگ کے علاوہ کوئٹہ و دیگر علاقوں سے مرد و خواتین ان ٹھکانوں سے یہ زہر حاصل کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو منشیات کے یہ اڈے نظر نہیں۔ خضدار انتظامیہ روزانہ قومی شاہراہ پر چیک پوسٹوں پرمنشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کاروائی کررہی ہیں اور منشیات برآمد کررہیں۔سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا منشیات مستونگ کے راستے قومی شاہراہ سے گزرتے ہے مگر یہاں کسی بھی چیک پوسٹ پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لایا جاتا۔چیک پوسٹیں تو منشیات و دیگر جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے قائم کی جاتی ہے مگر یہاں تو روزانہ گزرنے والیاسمنگلنگ کے مختلف اشیا سے بھرے گاڑیاں ٹینکرز کی تحفظ کی جاتی رہی ہیں۔منشیات کی لعنت سے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زندگیاں اور گھر تباہ ہورہے ہیں۔اور یہ سلسلہ روز بروز تیزی سے بڑھ رہاہیں۔منشیات کے خاتمے کیلئے سخت کریک ڈاون کی اشد ضرورت ہے اور منشیات کے خلاف عوام میں آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں