تمام لاپتہ افراد کو بازیابی کیا جائے ،نگران وزیراعظم کے بیانات سے خدشات و تحفظات میں اضافہ ہوا، لواحقین

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)جبری گمشدگی کے شکار عظیم دوست بلوچ، آصف بلوچ، رشید بلوچ، کبیر بلوچ، مشتاق بلوچ، عطاء اللہ بلوچ، سفر علی بلوچ، ممتاز بلوچ اور سیف اللہ رودینی کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے کردار ادا کریں، پاکستان کے نگران وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے بیانات کے بعد لاپتہ افراد کے لواحقین کی خدشات و تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔رخسانہ دوست بلوچ جو کہ لاپتہ عظیم دوست بلوچ کی بہن ہے انہوں نے کہا ہے کہ میرے بھائی کو3جولائی2015 گوادر سے لاپتہ کیا گیا تھا جو تاحال لاپتہ ہیں میں نے ہر طرح کی ممکن کوششں کی اپنی بھائی کی بازیابی کیلئے مگر آج تک ہمیں انصاف نہیں ملا میں اس ریاست سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتی ہو میرے بھائی کو بازیاب کرو ہم میں اور درد سہنے کی ہمت اب نہیں رہی ہے۔سائرہ بلوچ لاپتہ آصف اور رشید کی بہن ہے انہوں نے کہا ہے کہ ‏31 اگست 2018 کو جب بھائیوں کو گرفتار کیا گیا اور انکی گرفتاری سی ٹی ڈی کے نام سے ظاہر کی گئی اس دن لیکر اب تک نہیں معلوم ہمارے بھائی کہاں ہیں؟ ہمیں انکا جرم بھی نہیں بتایا گیا؟ ہم انکی زندگی اور سلامتی کو لیکر بہت زیادہ فکرمند ہیں میرے بھائیوں کو بازیاب کردیں۔کبیر بلوچ، عطاء اللہ اور مشتاق بلوچ کے لواحقین نے ان کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کبیر، مشتاق اور عطاء اللہ کو منظر عام پر لایا جائے، یاد رہے خضدار کے رہائشی ہے،جنہیں 27 مارچ 2009 کو لاپتہ کیا گیا تھا۔ انکے جبری گمشدگی کو 15سال مکمل ہورہے ہیں وہ تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کے خاندانوں نے اپیل کی ہے کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کرکے ہمیں اس طویل انتظار، اجتماعی درد و اذیت سے نجات دلائی جائے۔شائستہ بلوچ جبری لاپتہ سفر علی کی بھتیجی ہے انہوں نے اپنے چچا کی بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے چجا سفر علی گزشتہ دس سال سے جبری لاپتہ ہیں اور ان دس سالوں میں ہم ایک گھٹن بھری زندگی جی رہے ہیں یہ دس سال ہم نے کس طرح گزاری ہے اور اب تک جس ازیت میں ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا سفر علی کے والدین بیمار ہیں ان کا سہارا ریاستی اژدھاہوں نے اپنے زندانوں میں رکھے ہیں۔بانڑی بلوچ خضدار سے لاپتہ ہونے والے مشکے کے رہائشی ممتاز بلوچ کی بھانجی ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا ایک سادہ سا مطالبہ ہے، ہم کوئی عیش و عشرت کا مطالبہ نہیں کررہے ، ہم بس اپنے ماما کی باحفاظت بازیابی چاہتے ہیں۔فرزانہ رودینی لاپتہ سیف اللہ رودینی کی ہمشیرہ ہے انہوں نے 22 نومبر 2013 سے لاپتہ اپنے بھائی سیف اللہ رودینی کی باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے ہمارے گھر کے آنگن نے بھائی کو نہیں دیکھا ۔انکی جبری گمشدگی سے لے کر ابتک ہر چیز ویسے ہی ساکن پڑی ہے ہماری زندگیاں بھی ٹھہر سی گئی ہیں میرے بھائی کو 22 نومبر کو خضدار سے لاپتہ کیا گیا ان دس سالوں میں نہ ہم نے اسے سنا نہ ہی ان کی ہلکی جھلک دیکھی۔ سیاسی و سماجی کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنی خاموشی ختم کرکے بلوچستان میں جاری انسانی المیہ کا نوٹس لیں اور جبری گمشدگیوں کو روکنے اور لاپتہ افراد کی باحفاظت بازیابی کے لئے عملی کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں