الجزیرہ کا اپنے صحافی کے قتل پر اسرائیل کیخلاف عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کا فیصلہ
غزہ (آن لائن) اسرائیلی فوج کے ہاتھوں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اپنے ہی فوجیوں کے قتل پر ہیومن رائٹس واچ نے ردعمل دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اپنے ہی فوجیوں کے قتل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے گولی مارو، پھرپوچھو، اسرائیلی فوج کا اقدام ان کی دیرینہ مشق کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ نے فلسطین میں اپنے صحافی کے قتل پر عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق ہیومن رائٹس واچ کے اسرائیل و فلسطین کے لیے ڈائریکٹر عمر شاکر نے اپنے بیان میں کہا کہ یرغمالیوں کے قتل کا واقعہ غیر مسلح لوگوں پر اسرائیل کے غیرقانونی طور پرگولی چلانے کا ٹریک ریکارڈ بھی ظاہرکرتا ہے۔ اس دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کی رہائی کیلئے بات چیت جاری ہے۔ غیرملکی خبررساںدارے کے مطابق پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ قطری وزیراعظم سے موساد کے سربراہ کی ملاقات ہوئی ہے، قطر نئے قیدیوں کی رہائی کے معاہدے میں ثالثی کر رہا ہے، نیوز کانفرنس میں اس سے متعلق مزید بات نہیں کرسکتا۔ دریں اثناءعرب میڈیا کا بتانا ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کے قتل کے بعد باقی مغویوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے نیتین یاہو حکومت پر مزید دباو¿ بڑھا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی وزارت خارجہ نے رفح میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے کی وضاحت مانگ لی ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی حکام رفح میں رہائشی عمارت پربمباری کے حالات پر وضاحت کریں، ایک فرانسیسی شہری بدھ کو رفح میں رہائشی عمارت پر اسرائیلی بمباری میں مارا گیا تھا۔خیال رہے کہ رفح میں اسرائیلی حملے میں فرانسیسی اہلکارسمیت 10 شہریوں کی موت واقع ہوئی تھی۔ ادھر الجزیرہ نے کہا کہ وہ اپنے صحافی کے قتل پر عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کریں گے اور کیمرہ مین ثمرابوداقہ کے ‘قتل’ کا معاملہ ہیگ کی عدالت بھجوانے کیلئے قانونی ٹیم کو ہدایت کردی ہے۔


