کوئٹہ نااہل حکمرانوں کی بدعنوانی کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہواہے ، جماعت اسلامی

کوئٹہ(یو این اے )نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان امیدواراین اے 263،امیدوار پی بی 42کوئٹہ ڈاکٹرعطاءالرحمان ،امیدوارپی بی 45کوئٹہ محمد حلیم حماس ،امیدوارپی بی46کوئٹہ سردار شیردل خان مینگل ایڈوکیٹ،امیدوار پی بی 44عبدالستارابابکی نے کہاکہ کوئٹہ نااہل حکمرانوں کی بدعنوانی کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہواہے بدقسمتی سے جن قوتوںنہ یہ حال کردیا ہے آج وہی پھر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں عوام الناس نااہل ،عوام دشمن بدعنوان عناصر کو ووٹ کی طاقت سے مستردکرکے جماعت اسلامی کے اہل پڑھے لکھے امیدواروں کا ساتھ دیں 8فروری ترازوکی جیت کا دن ہوگا ہم کارکردگی ،خدمت ،دیانت اور کردار کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے حلقہ انتخاب میں ورکرزکنونشن ،کارنرمیٹنگز،عوامی جرگے اور اجلاس سے خطاب اور وفودسے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ اگرشہری ترقی چاہتے ہیں بدامنی بدعنوانی کا خاتمہ چاہتے ہیں کو ئٹہ کو ترقی یافتہ شہر بناکر روزگارتعلیم اور صحت کے مراکزبحال وٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کاساتھ دیں جماعت اسلامی وعدے اور بے عمل اعلانات نہیں دیانت واخلاص کیساتھ عملی کام کرنے والے ملک گیر منظم عوامی اسلامی حقیقی جمہوری پارٹی ہے بلوچستان کے عوام اسلام وقومیت کے بجائے کردار،عمل ،جدوجہد اورتقویٰ کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنے کیلئے ووٹ جماعت اسلامی کے امیدواروں کے حق میں استعمال کریں ۔عوام الناس جھوٹے وعدوں ،بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کے بجائے حکومت میں نہ ہونے کے باوجود عوام کی خدمت دیانت داری سے کرنے والی پارٹی جماعت اسلامی کے امیدوارو ں کو ووٹ دیں ۔ خاندانی ،موروثی سیاست پارٹیوں کو خاندانی پرپارٹی بنانے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ۔بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے باشعورعوام پر خرچ کرنے ،لاپتہ افرادکا بازیاب ،سی پیک ،ریکوڈک وسیندک کے ثمرات عوام کو پہنچانے ،بے روزگاری غربت ختم کرنے کیلئے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی پر کسی خاندان یا کسی لٹیرے کا قبضہ نہیں پارٹیاں بدل کرپراپرٹیاں بدلنے قوم کیلئے نقصان کا باعث ہیں۔بلوچستان کے تمام علاقے تباہی وبربادی کا منظرپیش کر رہے ہیں صوبہ بھر میں کہیں کوئی موٹروے ،میٹروریلوے ،ٹرانسپورٹ کی جدید سہولیات ،علاج کا معیاری ہسپتال ، تعلیم کا بہترین ادارہ نہیں ۔عوام الناس پینے کا پانی،علاج کی سہولت اور تعلیم کے مواقع خریدنے پر مجبور ہیں جب عوام یہ سب کچھ اپنی جیب سے کر رہے ہیں بجلی وگیس کی سہولت سب کو میسر نہیں لوڈشیڈنگ نے عوام کو پریشان کر دیے ہیں ہر طرف بے روزگاری لیکن وزراءوبیوروکریسی اہل وپڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے من پسند لوگوں کوروزگاردے رہے ہیں یا اہل وپڑھے لکھے لوگوں کو روزگار فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان مایوسی واحساس محرومی کا شکار ہیں جگر گوشوں کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والوں کیساتھ مذاکرات کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے ۔بارڈر ،ساحل ،چیک پوسٹوں ،شاہراہوں پر مقتدر قوتوں کا قبضہ ہے اور بھاری سرمایہ ان قوتوں کے اکاﺅنٹ یا جیب میں منتقل ہورہاہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں غربت وبے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ان تمام مسائل کا حل جماعت اسلامی کو ووٹ دینے میں ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں